بیرونی طلباء کو احتیاط اور احترام سے بلا جائے

02:30PM Wed 12 Jul, 2017

مدارس کے طلباء کے شناختی کارڈ بنائے جائیں :مولانا مزمل بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) گذشتہ دنوں بنگلور کے کنٹوٹمنٹ ریلوے اسٹیشن پر گوہاٹی ایکسپریس کے ذریعہ آنے والے130بچوں کو پولیس کی تحویل میں لئے جانے اور پھر ان کی رہائی والے معاملہ کا جائزہ لینے اور آئندہ اس طرح کے واقعات کے سدباب کیلئے لاء عمل پر غور کرنے کیلئے آج یہاں این اے یس شادی محل میں ایک مشاورتی نشست منعقد ہوئی ۔ اس موقع پر مسجد فاروقیہ گوری پالیہ کے خطیب مولانا محمد مزمل والا جاہی نے بتا یا کہ آج حالات ٹھیک نہیں ہیں فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کوبدنام کر نے کیلئے حیلے بہانے تلاش کرتی ہیں اس لئے ہم لوگوں کو بھی محتاط ہونے کی ضرورت ہے انہوں نے بتایا کہ یوپی ، بہار ، آسام وغیرہ ریا ستوں کے بچے بنگلور کے مدارس میں پڑھتے ہیں یہ مہمانان رسولؐ ہیں لیکن باہر سے بچوں کو لایا جاتا ہے تو احتیاط اور احترام کے ساتھ لانا چاہئے باہر سے آنے والے بچوں کے شناختیکارڈ اور ان کے ریکارڈس ہونی چاہئے مدارس کے ذمہ داروں کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔گذشتہ دنوں ریلوے اسٹیشن پر ہوئے واقعہ پر افسوس اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا مزمل نے کہا کہ کچھ تنظمیں جو خود بھی خراب ہیں اور ملک کے ماحول کو خراب کرنا چاہتی ہیں وہ ہمیشہ مساجد مدارس اور علماء کو بدنام کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرتی رہتی ہیں گذشتہ دنوں ریلوے اسٹیشن پر بچوں کے معاملہ کو لے کر اسے الگ رنگ دینے کی کوشش کررہے تھے بروقت جناب ضمیر احمد خان، جناب رضوان ارشد اور دیگر تنظیموں کے ذمہ داروں کی کوشش سے بچوں کی رہائی عمل میں آئی۔ مولانا مزمل نے بتایا کہ بنگلور کی پولیس نے بھی بھرپور تعاؤن کیا اور کہاکہ بنگلور ہمیشہ سے سکیولر رہا ہے اور رہے گا۔ آئندہ اس طرح کے واقعیات کو روکنے کیلئے ہمیں کوئی لاء عمل تیار کیا جانا چاہئے۔ اس سے قبل مسجد اشرفیہ کے صدر مولانا نوشاد عالم قاسمی نے کہا کہ مدارس کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد واپس آنے والے بچوں کو روکا گیا۔ اس سے بہت سارے بچوں اور ذمہ داروں کو پریشانی ہوئی ۔اس طرح کے واقعات کے سدباب کیلئے ہمیں تدابیر اختیار کرنی چاہئے۔ مدارس میں پڑھنے والے بچوں کے شناختی کارڈ بنانا چاہئے مدارس والوں کو چاہئے کہ وہ وقتاً فوقتاً مقامی پولیس افسران اور مقامی غیر مسلم لیڈروں کو مدرسہ میں بلایا کریں تاکہ ان کو بھی معلوم ہو کہ مدارس میں کیا تعلیم دی جاتی ہے آج کے حالات میں ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے جذبات میں آکر کوئی غلط قدم نہ اٹھائیں ، اخلاق کا مظاہرہ کریں ہمارا دین اخلاق کی تعلیم دتیاہے اس موقع پر سدبھاؤنا کے جناب صادق پاشاہ اور یس ڈی پی آئی کے ڈاکٹر صاحب نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے ۔ اس سلسلے میں آئندہ تمام علماء کرام کی ایک نشست طلب کرنے پر غور ہوا۔