بابری مسجد: عدالت سے ہی حل ممکن،وزیراعظم جب خو دفریق ہوں تومنصفانہ حل نہیں ہوسکتا
10:06AM Tue 28 Mar, 2017
بابری مسجدایکشن کمیٹی کی میٹنگ میں سپریم کورٹ میں ہی فیصلہ پرزور:ظفریاب جیلانی
لکھنؤ، (بھٹکلیس نیوز)بابری مسجدایکشن کمیٹی نے آج کہاکہ بابری مسجد تنازعہ کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا اور اس کا حل صرف سپریم کورٹ سے ہی ہوسکتاہے۔واضح ہوکہ ایک طرف عدالت سے باہرباہمی مفاہمت سے معاملہ کونمٹانے کی وکالت کی جارہی ہے تودوسری طرف سبرامنیم سوامی جیسے متنازعہ لیڈران مسلسل متنازعہ بیانات دے رہے ہیں۔ایسے میں زوراورزبردستی کی دھمکی کے تناظرمیں میٹنگ اورباہمی مفاہمت کاکیامعنیٰ رہ سکتاہے ۔کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے آج یہاں ایک بیان میں بتایا کہ کمیٹی کی یہاں ہوئی ایک میٹنگ میں سپریم کورٹ کے چیف کی طرف سے ایودھیا تنازعہ کو باہمی رضامندی سے حل کرنے اور ضرورت پڑنے پر اس میں ثالثی کی پیشکش کو لے کر یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ بابری مسجد کا مسئلہ صرف عدالت سے ہی حل ہو سکتا ہے۔میٹنگ میں کہا گیا کہ عدالت کے باہر کئی بار بات چیت ناکام رہی ہے اور اس وقت بھی بات چیت سے اس مسئلے کا کوئی حل ممکن نہیں ہے۔جیلانی نے بتایاکہ میٹنگ میں یہ بھی محسوس کیا گیا کہ پہلے وزیر اعظم منصف ہواکرتے تھے لیکن اس وقت تو وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ خودایک فریق ہیں جو بی جے پی کی رام مندر تحریک کے حامی اور کارکن ہیں۔ ان سے قطعی یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مسجد کے مسئلے پر انصاف کریں گے۔میٹنگ میں یہ بھی محسوس کیا گیا کہ اگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یا دیگر جج دفعہ89کے تحت مسئلے کے حل کے لیے کوشش کریں تو اس کوشش میں مسلم فریق ضرور تعاون کرے گا۔معلوم ہوکہ سپریم کورٹ نے گزشتہ دنوں کہاتھاکہ ایودھیاکاتنازعہ انتہائی حساس ہے اوراسے مختلف فریقوں کو باہمی بات چیت سے حل چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں ثالثی کرنے کوبھی تیارہے۔