بی جے پی کی دلت مخالف پالیسیوں سے ناراض اُدت راج نے تھاما کانگریس کا دامن
12:10PM Wed 24 Apr, 2019
لوک سبھا انتخاب کی گہما گہمی کے درمیان بی جے پی کو رکن پارلیمنٹ اُدت راج نے زبردست جھٹکا دیا ہے۔ دلت لیڈر ادت راج نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ وہ بی جے پی کی پالیسیوں سے کافی دنوں سے ناراض چل رہے تھے۔ انھوں نے ملک بھر میں دلتوں پر ہو رہے مظالم کے خلاف آوازیں بھی کئی بار اٹھائیں لیکن بی جے پی نے اپنے اس دلت لیڈر اور رکن پارلیمنٹ کو کبھی ترجیح نہیں دی۔

2014 کے لوک سبھا انتخاب میں ادت راج نے شمال مغربی دہلی سیٹ سے فتحیابی حاصل کی تھی۔ اس بار بھی ادت راج اس سیٹ سے انتخاب لڑنا چاہتے تھے۔ انھوں نے پارٹی سے ٹکٹ کا مطالبہ کیا تھا، لیکن بی جے پی نے ان کی ایک نہ سنی۔ بی جے پی نے شمال مغربی دہلی سیٹ سے گلوکار ہنس راج ہنس کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ ہنس راج ہنس سال 2016 میں ہی بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ حالانکہ ادت راج نے بی جے پی کو الٹی میٹم دیا تھا لیکن پارٹی نے اپنے دلت لیڈر کی کوئی بات نہیں سنی اور انھیں کنارہ کش کر دیا۔

دراصل دلتوں کو لے کر بی جے پی کا رویہ ہمیشہ سے ڈھلمل ہی رہا ہے۔ ادت راج کوئی پہلے ایسے دلت رکن پارلیمنٹ نہیں ہیں جنھیں بی جے پی نے ترجیح نہیں دی۔ اس سے قبل اتر پردیش کے بہرائچ سے دلت لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ساوتری بائی پھولے نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ انھوں نے کانگریس پارٹی کی رکنیت لی تھی۔ بی جے پی کو چھوڑنے کے بعد رکن پارلیمنٹ ساوتری بائی پھولے نے پی ایم مودی اور بی جے پی پر کئی سنگین الزامات بھی عائد کیے تھے۔ انھوں نے کہا تھا کہ بی جے پی اور مودی حکومت میں دلتوں کی آواز نہیں سنی جاتی۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پارلیمنٹ میں انھیں دلتوں کی آواز اٹھانے سے بھی روکا گیا۔ ساوتری بائی پھولے کا کہنا تھا کہ پی ایم مودی اور بی جے پی کے دو چہرے ہیں، ایک طرف وہ دلتوں کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ دلتوں کی آواز کو دباتے ہیں۔