علاقائی افسران کی لاپرواہی کانتیجہ : پچھڑے اور پسماندہ علاقوں میں غلاظت اور آلودہ پائپ لائن کی مار؟
01:55PM Tue 7 Mar, 2017
سہارنپور (بھٹکلیس نیوز) پچھڑے ، پسماندہ اور مسلم علاقوں کے سدھار اور بہتری کے لئے گزشتہ پندرہ سالوں میں کتنی ہی مرتبہ مرکزی سرکار کی جانب سے بہت سے یوجناؤں کے تحت ضلع کی ملن اورپسماندہ بستیوں کی ترقی اور بہتری کیلئے وقت وقت پر سلسلہ وار کافی پیسہ آیاہے مگر کرڑوں کی رقم کہاں لگی ہے کس طرح سے کس کس کام کیلئے بڑی رقم استعمال ہوئی ہے یہ سبھی تحصیلوں، پنچایتوں، نگر پالیکاؤں اور شہری نگر نگم کے کاغذات میں اگر اندراج ہے تو بڑے عجیب انداز سے مگر یہ کہیں بھی ظاہر نہیں ہے کہ جس کام کے لئے یہ پیسہ آیاہے وہ کام کہاں کہاں اور کیسے کیسے کرایاگیا ہے اس سچ کا جواب علاقہ کے کسی بھی افسر کے پاس آج بھی نہی ہے اور جو کام ہوئے ہیں وہ کام بھی آجتک موقع پر ثابت نہی ہیں؟ہمارے قائدین کوبھی اپنے عوام کے بھلے کے لئے اپنے عوام کا حق اور انکے لئے آئے ہوئے پیسہ کا حساب مانگتے ہوئے شرم آتی ہے یہ ضرور ہے کہ وزراء کی چمچہ گری میں اور وزراء کی خاطر لاکھوں کی رقم خرچ کرنے میں ان نیتاؤں کو نہ جانے کیوں فخر کا احساس ہوتاہے ؟ آ صبح فجر کے وقت ہونے والی بارش سے شہر کے پرانے علاقوں میں گزر ناممکن بن کر رہ گیا غلاظت اور گندے پانی کے سبب عوام کا مسجدوں میںآناجانا بھی دشوار ہا ، چلکانہ روڑ ، چکروتہ روڑ ، نور بستی ، حسین بستی ، آزاد کالونی ، حبیب گڑھ ، حاکم شاہ کالونی ، منصور کالونی ، دھوبی والا، کمیلہ کالونی ، نشاط روڑ، آلی آہنگران ، مہندی سرائے اور اسلامیہ ڈگری کالج سرائے حسام الدین،سرائے فیض علی،پل بنجاران، داؤد سرائے اور اسکے آس پاس کا علاقہ گندگی ،نالیوں اور نالوں میں بھرے ہوئے چوڑے سے گھراہواہے نتیجہ کے طور پر یہ تمام علاقہ بدبو اور مچھروں کی بہتات سے دو چار ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے ان علاقوں کے نالے اور نالیاں چوڑے سے بھرے ہوئے پڑے ہیں ضلع حکام بالخصوص نگر نگم کے صفائی ملازمین ہر روز آتے ہیں اور سر سرے طورپر ہلکی سی نمائشی طور پر صفائی کر کے چلے جاتے ہیں جبکہ گندگی اسی حالت میں ہی قائم رہتی ہے مندرجہ بالاپسماندہ علاقوں میں لاکھوں لوگ آباد ہیں نالوں اور نالیوں کا پانی آدھے سے زیادہ ان علاقوں کے گھروں میں گھسا رہتا ہے مچھروں کی پیداوار اس قدر ہے کہ ان جگہوں پر عام آدمی کا رہنا ناممکن ہے مگر غریبی کے ستائے مسلم لوگ ان علاقوں کو چھوڑکر جائے تو کہاں جائے حکام کو ان غریبوں کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہے سیاست داں ووٹ کے لئے ان بستیوں میں آتے ہیں اور جھوٹے وادے کر کے لوٹ جاتے ہیں گزشتہ۵ سالقبل سماج وادی پارٹی کے لیڈران نے ان علاقوں میں آکر مسلمانوں کو سبز باغ دکھائے اور ان سے ووٹ حاصل کرتیرہے گزشتہ دنوں بھی وہی یہاں ووٹ کیلئے آئے اور چلے گئے مگر سماج وادی پارٹی کے ان لیڈران نے کبھی ان علاقوں کے مسائل حل کرنے اور کرانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی آج ان علاقوں میں پینے کا پانی بھی گندے جراسیم سے بھرا ہوا ہے ، غلاظت اور گندگی کے باعث ان علاقوں میں کھلی ہوا میں سانس لینا بھی دوبھر ہے جگہ جگہ غلاظت اور چوڑے کے انبار لگے رہتے ہیں عام لوگوں کا بالخصوص خواتین اور بچوں کا گزر مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے ہر وقت سڑکیں گندے پانی اور کیچڑ سے لبا لب رہتی ہیں جتنے بھی مسائب ان علاقوں کے پسماندہ مسلمانوں کو برداشت کرنے پڑ رہے ہیں وہ کسی جہنم کی تکلیف سے کم نہیں سچ مانو تو ان علاقوں کے مسلمانوں کا روز مرہ کا جینا جہنم سا ہو کر رہ گیا ہے مگر لاچاری اور مجبوری کے سبب لاکھوں لوگ گندگی اور مچھروں کی یلگار کے بیچ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں علاج کے نام پر اس علاقہ کے عوام کے لئے سرکاری سطح پر ان علاقوں میں اسپتال کا اسپتال میں معقول علاج کا کوئی بندو بست نہیں ہے ان علاقوں میں جو ادارہ کھلے ہیں ان کے باہر بھی گندگی کی بھرمار ہے سرکاری اسکول میں پانی بھرا رہتا ہے اور سرکاری اسکول کے اطراف بھی گندگی اور چوڑے کی بھرمار ہر وقت دیکھی جا سکتی ہے سڑکوں کا حال بیان سے باہر ہے جہاں تک پاور سپلائی کی بات ہے تو اسکے بارے میں ذکر فضول ہے کیونکہ سہارنپور نگر نگم تو بن چکا ہے مگر مسلم علاقوں کے لئے معقول گرانٹ نہ آنے کے باعث ترقی اور خوشحالیکے بہتر بندوبست سرکار اور انتظامیہ کی جانب سے آج تک نہی کرائے گئے ہیں جو گرانٹ مل رہی ہے وہ اونٹ کے منھ میں زیرہ کی مانند ہی ہے سینئر حکام ان پچھڑے علاقوں میں سدھار کے لئے تھوڑے بھی سنجیدہ نہی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج دوسال کے بعد بھی حالت قابل رحم بنی ہوئی ہے ؟