خارجہ سیکرٹری جے شنکرچارروزہ دورے پر آج امریکا پہنچیں گے

12:53PM Mon 27 Feb, 2017

نئی دہلی۔(بھٹکلیس نیوز) وزارت خارجہ کے سیکرٹری ایس جے شنکرآج (منگل کو)امریکا کے چارروزہ دورے پر واشنگٹن پہنچیں گے ۔ذراائع کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایاکہ سابق امریکی انتظامیہ کے برعکس موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پاکستان کے بارے میں زیادہ سخت مؤقف اختیار کرے گی۔ وزارت خارجہ کے مطابق امریکا میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سیکرٹری خارجہ امور سبرامنیم جے شنکر اپنے پہلے سرکاری دورہ امریکا کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ باہمی دلچپسی کے متعدد امور کے علاوہ علاقائی مسائل پر بھی توجہ مرکوز رکھیں گے۔جے شنکر آج(منگل کو) امریکا پہنچیں گے اور وہ اپنے اس چار روزہ دورے کے دوران نگران نائب امریکی وزیر خارجہ ٹام شانن سے مذاکرات کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں وہ امریکی پالیسی بھی زیر بحث آئے گی، جس کے تحت امریکی کمپنیوں میں بھارت یا دیگر ممالک کے باشندوں کو ملازمت دیے جانے کو مشکل بنانے کی تجویز کیا گیا ہے۔امریکی حکومت نے اس حوالے سے ایک مجوزہ قانونی مسودہ تیار کر لیا ہے۔ تاہم اس منصوبے پر کئی ممالک کی طرح بھارت نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس پیشرفت کے باعث رواں ماہ کے دوران بمبئے اسٹاک ایکسچینج میں ٹاپ کی بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے شیئرز میں دو تا چار فیصد کی گراوٹ بھی نوٹ کی جا چکی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ امریکا میں بھارتی باشندے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں نہ صرف انتہائی فعال ہیں بلکہ وہ بڑی بڑی کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق سیکرٹری خارجہ اپنے اس امریکی دورے کے دوران نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں امریکی ریاست کینساس کے ایک بار میں بھارتی شہریوں پر حملے کے تناظر میں بھی گفتگو کریں گے۔بتایا گیا ہے کہ جے شنکر زور دیں گے کہ واشنگٹن حکومت امریکا میں مقیم غیر ملکیوں اور خاص طور پر بھارتی باشندوں کو زیادہ تحفظ فراہم کرے۔ یاد رہے کہ کینساس میں مبینہ طور پر ’غیر ملکیوں سے نفرت‘ کی بناء پر فائرنگ کر کے ایک بھارتی شہری کو قتل اور دوسرے کو زخمی کرنے والے ایک مقامی باشندے کو گرفتار کر کے اس پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو امریکا کا دورہ کرنے کی دعوت دے رکھی ہے اور متوقع طور پر مودی اس سال کے اواخر میں امریکا جائیں گے۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے باہمی تعلقات میں ایک سرد مہری دیکھی گئی تھی تاہم ناقدین کے خیال میں ٹرمپ کی کوشش ہو گی کہ وہ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اس جنوب ایشیائی ملک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو زیادہ بہتر بنائیں۔نئی دہلی حکومت کو توقع ہے کہ صدر ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن حکومت پاکستان کے بارے میں بھی سخت مؤقف اختیار کر سکتی ہے۔ سابق امریکی صدر کی حکومت میں پاکستان امریکی امداد وصول کرنے والا ایک اہم ملک رہا۔ واشنگٹن حکومت دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کو اپنا اتحادی قرار دیتا ہے۔