بیف رکھنے کے شبہ میں اقلیتی برادری کی دو خواتین کی سرعام پٹائی، پارلیمنٹ میں ہنگامہ

12:04PM Wed 27 Jul, 2016

نئی دہلی۔ مدھیہ پردیش کے مندسور میں بیف کے شک میں اقلیتی برادری کی دو خواتین کی پٹائی کا معاملہ آج پارلیمنٹ میں بھی گونجا۔ راجیہ سبھا میں کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ گئوركشا کی آڑ میں کسی خاص مذہب کو نشانہ بنانا صحیح نہیں ہے۔ وہیں خبر یہ بھی ہے کہ جن عورتوں کی پٹائی کی گئی، ان خواتین کے پاس بیف تھا ہی نہیں۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد اب پولیس اپنے دفاع میں یہ کہہ رہی ہے کہ ان کے پاس نہ تو پٹائی کی اطلاع ہے اور نہ ہی خواتین نے پٹائی کی شکایت کی ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی یہ معاملہ گونجا۔ راجیہ سبھا میں غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم گئوركشا کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ گئوركشا ہونی چاہئے لیکن گئوركشا کی آڑ میں دلتوں اور مسلمانوں کو نشانے پر لیا جائے، یہ ہمیں منظور نہیں۔ غور طلب ہے کہ مندسور اسٹیشن پر دو خواتین کی مبینہ ہندو تنظیم کے کارکن نے پٹائی کر دی تھی۔ ان خواتین کی پٹائی ان کے پاس بیف ہونے کے شک میں کی گئی تھی۔ بعد میں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ ان خواتین کے پاس 30 کلو گوشت تھا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ بیف ہے، لیکن اب تحقیقات میں پایا گیا کہ یہ بیف نہیں تھا۔