یونیسکو کی اہم قرار داد منظور ، دیوار گریہ اور مسجد اقصی پر مسلمانوں کا حق ، یہودیوں کا دعویٰ باطل قرار

02:58PM Fri 14 Oct, 2016

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت یونیسکو نے ایک اہم قرارداد پر رائے شماری کے بعد مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصی اور دیوار گریہ پر یہودیوں کا مذہبی رسومات کی ادائی کے حق کا دعویٰ باطل قرار دیا ہے ، جس پر صہیونی حکومت کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔(تصاویر : مرکز اطلاعات فلسطین) ۔ خبروں کے مطابق یونیسکو میں جمعرات کو منظور ہونے والی ایک قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مسجد اقصی اور دیواربراق پر یہودیوں کا کوئی حق نہیں۔ یہ جگہ مسلمانوں کا تاریخی مذہبی مقام ہے۔ رائے شماری میں 26 ممالک نے قرارداد کے حق میں جب کہ 6 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ 26 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جب کہ دو ملک غیرحاضر رہے۔ اسرائیل نے رائے شماری روکنے کیلئے بھرپور کوشش کی اور یوروپی ملکوں کو رائے شماری سے روکنے میں کامیاب بھی رہا ۔ تاہم اس کے باوجود قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل مسجد اقصی کی تاریخی اور اسلامی حیثیت کو مسخ کرنے کے لیے اپنی مرضی کی من گھڑت اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے یہاں پر یہودیوں کا مذہبی حق جتلانے کی ناکام کوشش کرتا رہا ہے۔ صہیونی ریاست مسجد اقصی کی جگہ جبل ھیکل اور دیوار براق کی بجائے دیوار گریہ کی اصطلاح استعمال کرکے اس مقدس مقام کو یہودیانے کی سازشیں کرتی رہی ہے۔ یونیسکو کی ویب سائٹ پرموجود قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصی اور دیوار براق صرف مسلمانوں کی ملکیت ہیں جن پر یہودیوں کا کوئی حق نہیں۔ قرارداد کی منظوری پر اسرائیل نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم یاھو نے کہا کہ یہ یونیسکو کا ایک بے کار ڈرامہ ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ یاہو کے مطابق ایک بار پھر یونیسکونے یہ فیصلہ صادر کیا ہے کہ جبل ھیکل اور مغربی دیوار پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں۔