مسلسل بارش سے کرناٹک کے ڈیم زیر آب
12:34PM Mon 4 Aug, 2014
بھٹکلیس نیوز/04اگست ،14
بنگلور/ریاست کے زیادہ ترحصوں میں زبردست بارش نے کچھ دنوں سے زندگی کو بے قابو کر دیا ہے ، زیادہ تر برڈج ڈوب گئے ہیں اور زمین کھسکنے کے واقعات راستوں اور ریل راستوں پر ٹرافک کو متاثر کر رہے ہیں ،کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور ندیوں کو سیلاب کا خطرہ ہے ،زیادہ تر ڈیم لبریز ہیں اور کرنٹ گیٹ کے ذریعہ پانی باہر چھوڑا جا رہا ہے ،ہوسپٹ میں تنگا بھدرا ڈیم بھرا ہواہے اور 33/کریٹ گیٹوں سے 1,74,345/کیوسک پانی باہر چھوڑا جارہا ہے ،ڈیم کے کئی نچلے علاقہ ڈوب گئے ہیں ،ہسور ہمپی، ثنا پور اٹاگی ،بلگوڑ ہالو، سرگپہ اور اطراف کے علاقوں میں پانی گھس گیا ہے اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ،پہلی گنگاوتی برڈج ڈوب گیا ہے ،اور کمپلی میں ہونے والے آنجنیا مندر پوری طرح ڈوب گیا ہے ، ضلعی انتظامیہ نے تنگ بھدرا ساحل پر رہ رہے لوگوں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ محفوظ مقامات کو منتقل ہو جائیں ،مغربی گھاٹوں میں زبردست بارشوں کے سبب کرشنا بیسن کے تمام ڈیم بھرے ہو ئے ہیں ،آلمٹی ڈیم کے تمام 26/کریٹ گیٹ پہلی مرتبہ کھول دیئے گئے ہیں ،کے پی سی ایل کے ذرائع نے کہا کہ ڈیم پر موجود پاور اسٹیشنوں میں 270/میگا وائٹ ہائیڈرل بجلی تیار کی جارہی ہے ،دریں اثناء منڈیا ضلع کے کرشنا راج ساگر ڈیم میں پانی کی سطح 117.3فیٹ تک پہنچ گئی ہے ،کرشنا اور اس کی ندیوں میں مہاراشٹر سے پانی کا بہاؤبڑھنا جاری ہے ،ہفتہ کو ہاویری ضلع میں 44.2/ایم ایم بارش ریکارڈ کی گئی ،293/مکانات جزوی طور ہر ڈھ گئے ہیں ،459/ہیکڑ زمین پر اگا ئی گئی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور وردا و تنگ بھدرا ندیوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے ، ہاسن ضلع کے گورو تعلقہ کے ہیماوتی ڈیم کے 6/کریٹ گیٹوں سے پانی چھوڑا گیا ہے ، سکلیشپور ہ سبرمنیا اور شیر اور گلو ،یڈا کو میری کے کوپل راستے زمین کھسکنے کے سبب بند ہیں ،اس سے بنگلور اور منگلور کے درمیان ریل کی ٹرافک بند ہو گئی ہے۔