تین کروڑ دستخطوں کے ذریعہ مسلمانوں کا اظہار رائے تاریخ کام : مولانا ولی رحمانی 

01:28PM Fri 27 Jan, 2017

فیملی کورٹ کی طرح دارالقضاء کو بھی قانونی حیثیت دی جاسکتی ہے: رحمن خان بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) آل انڈیا مسلم پرنسل لاء بورڈ ملک میں قانون شریعت کے تحفظ میں ایک اہم رول ادا کرتے آرہا ہے جب بھی قانون شریعت میں تبدیلی کی آواز اٹھی مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسلم اتحاد کی کوشش سے اس آواز کو چیلنج کیا گیا اور اس میں کامیاب رہے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری جنرل مولانا ولی رحمانی نے کل رات یہاں آرٹی نگر میں ایک خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ مولانا نے بتایا کہ ابھی حال میں جب لاء کمیشن آف انڈیا کی طرف سے ایک سوالنا مہ پیش ہوا تو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے دستخطی مہم چلائی گئی اور تین کروڑ سے زائد دستخط شدہ فارم موصول ہوئے اور انہیں عدالت کے ذریعہ صدر ہند، وزیر اعظم ، لاء کمیشن اور ویمن کمیشن کو بھجوایا گیا ہے مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے دستخط کے ذریعہ مسلمانوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے یہ ایک تاریخی کام ہے مولانا نے مسلمانوں کو آوازدی کہ ہم خود شریعت کی پیروی کریں ہم جنتا دین جانتے ہیں اس پر عمل کریں جب ہم دین کے احکامات پر عمل کریں گے تو عدالتوں اور حکومتوں کا قانون ہمیں شریعت پر چلنے سے روک نہیں سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا ولی رحمانی نے بتایا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں مسلمانوں کو الجھنے کی ضرورت نہیں مسلک اور عقیدہ اپنی جگہ ہے مسلک جوڑنے کیلئے ہے توڑ نے کیلئے نہیں ہماری منزل ایک ہے لیکن راستے الگ الگ ہیں ہم سب کو منزل کی طرف چلنے کی فکر کرنی چاہئے۔ اس موقع پر رکن پارلیمان ڈاکٹر کے رحمن خان نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلمانوں کی آواز کا ایک ترجمان ہے مسلمانوں کیلئے ایک واچ ڈاگ کا رول ادا کررہا ہے مسلمانوں کا ایک مضبوط ادارہ جونہ صرف تحفظ شریعت تک محدود ہے بلکہ مسلمانوں کے دیگر مسائل اور حقوق کے تعلق سے بھی آواز اٹھاتا آرہا ہے جب بھی قانون شریعت کے خلاف آواز اٹھتی ہے تو فوراً بورڈ سامنے آتا ہے مسلم معاشر ے پر بھی بورڈ کی نظر ہے بورڈ میں اصلاح معاشرے کا ایک شعبہ بھی ہے جو معاشرے کی اصلاح اور بیداری پیدا کرنے کاکام انجام دیاتا ہے جناب رحمن خان نے بتایا کہ ہمارے معاملات کو عدالتوں کی بجائے دارلقضاء میں لے جاکر حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے نآج کل اس کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے آپ نے کہا کہ حکومت جب فیملی کورٹ کو اہمیت دیتی ہے تو دار لقضاء کو بھی قانونی حیثیت دے سکتی ہے آربٹ ریشن ایکٹ میں اس کی گنجائش ہے۔ پرسنل لاء بورڈ کے علاوہ قوم اور رضا کار اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے معاملات کو دارالقضاء میں لے جاکر حل کرنے کیلئے ملت کے اندر بیدای پیدا کریں۔جناب رحمان خان نے ولی رحمانی کو ایک بے باک شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی حکومت کے سامنے ملت کی بات آتی ہے تو آپ پوری بے باکی کے ساتھ آواز اٹھاتے ہیں۔جناب رحمن خان نے بتایا کہ آج ملک میں وقف کا ایک نیا قانون بنا ہے وقف ایکٹ میں تبدیلی کے ساتھ جو نیا قانون بنا ہے اس میں بھی مولانا ولی رحمانی کا تعاون رہا ہے آج ملک میں اوقاف کی ترقی اور تحفظ کیلئے بہترین قانون ہمارے پاس موجود ہے اس پر عمل ہوا تو ملک کی اوقاف مسلمانوں کیلئے سونے کی کان ثابت ہوگی یہ بات انہوں نے پارلیمنٹ میں بھی کہی ہے جناب رحمن خان نے بتایا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اور دیگر سرکاری اداروں کا اوقاف پر قبضہ ہے تکنیکل طور پر ایسا ہوگا لیکن اوقاف کی99فیصد جگہ پر خود مسلمانوں کا قبضہ ہے قوم کی ذمہ داری ہے کہ اوقاف کی ترقی اور تحفظ میں خود دلچسپی لیں ۔کل کی خصوصی نشست میں آرٹی نگر ، کوثر نگر، چا منڈی نگر، گنگا نگر، اور رحمت نگر علاقہ کی مساجد کے ذمہ دار احباب شریک تھے۔