ترکی نے شام کو کرد جنگجوؤں کی مدد کرنے پر سنگین نتائج بھگتنے کا دیا انتباہ

01:04PM Tue 20 Feb, 2018

دبئی۔ ترکی نے شمالی شام میں ترکی کی فوج کے خلاف لڑ رہے کرد جنگجوؤں کی مدد کرنے کے معاملہ پر شام کی حکومت کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔ ترکی کے نائب وزیر اعظم بکر بوزدگ نے کہا کہ ترکی کے منصوبے درست طریقے سے چل رہے ہیں اور اگر شامی فوج نے اس میں مداخلت کی تو اسے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ اس سے پہلے شامی میڈیا نے کہا تھا کہ فوج کرد جنگجوؤں کی مدد کرے گی تاکہ عفرین میں ترکی کی سرگرمیوں کے خلاف جدو جہد کی جا سکے۔ سی این این ترک نے بتايا کہ صدر طیب رجب اردوغان نے روس کے صدر ولادمر پوتن سے کہا ہے کہ اگر شام نے کردوں کے ساتھ کسی طرح کا کوئی معاہدہ کیا تو یہ شام کے لئے برا ہوگا۔ وہیں وزیر خارجہ نے کہا کہ اب اگر شامی فوجی وائی پی جی کی مدد کرنے آئے ہیں تو پھر شامی فوجیوں کو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ اس دوران شامی فوج نے دمشق کے قریب غوطہ علاقے میں باغیوں کو نشانہ بنا کر فضائی حملے کئے جس میں 94 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ غوطہ میں فوج کے ہوائی اور راکٹ حملے میں 325 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
 فوج کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی سرکاری بیان نہیں آیا ہے جبکہ دمشق حکومت کا کہنا ہے کہ حملہ صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنا کر کیا گیا تھا۔