پاکستانی وزیرخارجہ نے یواین میں کشمیرکا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا "اس سے دونوں ممالک میں تنازعہ"۔
02:01PM Sun 30 Sep, 2018
اقوام متحدہ: وزیرخارجہ سشما سوراج کے پاکستان پراسامہ بن لادن اورحافظ سعید جیسے دہشت گردوں کو پناہ دینے کولے کرکئے گئے تیکھے حملے کے بعد پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان نے تیسری بارپاکستان سے بات چیت کا موقع گنوا دیا ہے۔
محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ہندوستان اورپاکستان کے لئے جنرل اسمبلی سے الگ ملاقات کرنے کا ایک اچھا موقع تھا، لیکن پھرسے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان نے تیسری باراس موقع کوگنوا دیا‘‘۔
جنرل اسمبلی کے اجلاس سے الگ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت منسوخ کئے جانے پرمحمود قریشی نے کہا’’پاکستان،ہندوستان کے ساتھ تمام ایشوز پر بات چیت کرنا چاہتا تھا لیکن نئی دہلی نے امن پرسیاست کو ترجیح دیتے ہوئے مذاکرات منسوخ کردی‘‘۔
اس سے پہلے 21 ستمبرکوہندوستان نے پاکستان کے ساتھ نيويارك میں ہونے والی وزیر خارجہ سطح کے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ہندوستان نے سکیورٹی اہلکاروں کے وحشیانہ قتل کے علاوہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کومفتخرکرنے کے لئے ان پر30 ڈاک ٹکٹ جاری کئے جانے کے بعد مذاکرات منسوخ کرنے کا یہ فیصلہ لیا تھا۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا، "اسلام آباد خود مختاربرابری اورباہمی احترام کی بنیاد پرنئی دہلی کے ساتھ تعلقات چاہتا ہے۔ ہم سنجیدہ اوروسیع مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل چاہتے ہیں جس میں تشویشات کے تمام ایشوزشامل ہوں‘‘۔
محمود قریشی نے کشمیر معاملہ کواٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ لاینحل تنازعہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔