کرناٹک اردو اکادمی کی ایک اور پیشکش " غالب کے خطوط "
02:00PM Wed 30 Dec, 2015
اردو صرف زبان نہیں بلکہ ہماری شان ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ چودھری
بنگلورو: غالبؔ کے 218 یو مِ پیدائش کی مناسبت سے غالب کے خطوط پر مشتمل انیس اعظمی کا مشہورِ زمانہ پروگرام " غالب کے خطوط "کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے بنگلورو میں پہلی مرتبہ بروز ہفتہ26 دسمبر 2015 شام 4بجے نیشنل گیلری آف ماڈرن آرٹس ، پیالس روڈ، بنگلورو کے آڈ ی ٹوریم میں پیش کیا گیا ۔ اس پروگرام کی افتتاحیِ تقریب کی صدارت ڈاکٹر فوزیہ چودھری، چیرپرسن، کرناٹک اردو اکادمی نے فرمائی اورسامعین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ ہماری ہر کوشش نئی اس لئے ہوتی ہے کہ ہم اردو کو اس مقام پر دیکھنے کے خواہش مند ہیں جہاں اصل میں اُسے ہونا چاہئیے اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہماری شان ہے۔ محترمہ بی۔ٹی۔للیتا نائک، کنڑ ادیب و سابق وزیر اور جناب رؤف خان، صدر، مہاراشٹر اردو اکادمی، ممبئی نے مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت فرمائی۔ محترمہ بی۔ٹی۔للیتا نائک نے اپنے انداز میں پہلے تو صاف اردو نہ بول پانے کی معذرت چاہی پھر فرمایا کہ ہر زبان ریاست کی ملکیت ہوتی ہے اور اردوملک کی عظیم زبانوں میں سے ایک زبان ہے۔ جناب رؤف خان، صدر، مہاراشٹر اردو اکادمی نے اپنے بیان میں کہا کہ پورے ہندوستان میں اردو زبان اگر کشمیر کے بعد سب سے زیادہ کہیں بولی جاتی ہے تو وہ ریاستِ مہاراشٹر ہے اور انہوں نے ڈاکٹر فوزیہ چودھری صاحبہ کی ستائش کرتے ہوئے ان کے دلیرانہ کام اور کام کے انداز کی بھر پور تائید کی۔ عاشقانِ غالب نے " غالب کے خطوط " کے ذریعہ گویا غالب کو زندہ پایا اور کرناٹک اردو اکادمی کی چیر پرسن کو خوب داد و تحسین سے نوازا۔جناب ملنسار اطہر احمد، ڈائریکٹر، آکاش وانی نے نظامت کے فرائض بخوبی انجام دئے