مراکش میں علماء کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی

04:38PM Sun 28 Jun, 2015

رباط (العربیہ)مراکش کے شاہ محمد ششم نے ملک میں پہلی مرتبہ آئمہ اور خطباء کی سیاست میں شرکت پر پابندی عاید کر دی ہے۔شاہی فرمان کے مطابق کسی بھی نوعیت کے دینی ذمہ داریاں ادا کرنے والے مراکشی شہریوں پر سیاست یا یونین سازی پر پابندی ہو گی۔ نیز دینی شعائر کی ادائی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی تمام دیگر سرگرمیوں پر بھی پابندی عاید کر دی گئی ہے۔ شاہی فرمان میں محمد ششم نے دینی شعائر کی ادائی کے لئے مخصوص مقامات پر سکون اور اطمینان میں خلل ڈالنے والی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا اشارہ مساجد میں سیاسی سرگرمیوں کی جانب تھا۔ نئے قانون کے تحت دینی شعبے میں کام کرنے والے افراد پر لازم ہے کہ وہ مکمل وقار اور آزادی سے دینی ذمہ دارایاں ادا کریں۔ حکومت سے پیشگی تحریری اجازت کے بغیر وہ کسی نوعیت کی فنڈ ریزنگ نہیں کر سکتے۔ تاہم انہیں نظریاتی اور علمی کاموں کے لئے فنڈ جمع کرنے کی اجازت ہو گی بشرطیکہ یہ معاملات اہل دین کی ذمہ داریوں سے متصادم نہ ہوں۔ نئے قانون میں ایک کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے کہ جو شاہی فرمان کی خلاف ورزی سے متعلق موصول ہونے والی شکایات کی تحقیق کرے گی اور سزا تجویز کرے گی۔