کسانوں سے پولیس کی جھڑپ کے بعد راجناتھ سنگھ نے کسانوں سے ملاقات کی، 9 میں سے7 مطالبات تسلیم
12:13PM Tue 2 Oct, 2018
قومی دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے بھارتیہ کسان یونین(بی کے یو) کے مظاہرین پر منگل کو دہلی -اترپردیش سرحد کے قریب غازی پور میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ یونین کے رہنما راکیش ٹکیٹ کی قیادت میں کسان قرض معافی اور دیگر مطالبات کو لے کردارالحکومت میں مظاہرہ کے لئے آنا چاہتے ہیں۔
اس دوران وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے احتجاج کررہے کسانوں سے ملاقات کی ہے اوران کے مطالبات تسلیم کرلئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 9 مطالبات میں سے حکومت نے 7 مطالبات تسلیم کرلئے ہیں۔
دوسری جانب کانگریس صدر راہل گاندھی نے "کسان کرانتی یاترا" کو روکنے کے لئے کسانوں پر مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کئے جانے کو لے کر ٹوئٹ کیا۔ "عالمی یوم تشدد پربی جے پی کا دو سالہ گاندھی جینتی تقریب پرامن دہلی آرہے کسانوں کی زبردست پٹائی سے شروع ہوا"۔ انہوں نے کہا "اب کسان ملک کی راجدھانی آکراپنا درد بھی نہیں سنا سکتے"۔
دہلی میں کسان تحریک کے دوران انتظامیہ کے ذریعہ کسانوں پرلاٹھی چارج کئے جانے کی سابق مرکزی وزیرجتن پرساد نے مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں کسانوں کے ساتھ جوہورہا ہے، وہ حکومت کی مایوسی کو ظاہرکرتاہے۔
دہلی - یوپی کی سرحد پرکسانوں اورسیکورٹی اہلکاروں کےدرمیان ہوئی جھڑپ پرسیتارام یچوری نے کہا کہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مودی حکومت کسان مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو راحت دینے کی جگہ انہیں پریشان کررہی ہے، جس سے کسان قرض کےدباو میں خودکشی کرسکیں۔ آزادی کے بعد سے اب تک ہم نے ہندوستان میں ایسا زرعی بحران نہیں دیکھا تھا۔