ایرانی تیل بردار جہاز نے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیا ، شکوک و شبہات میں اضافہ
03:44PM Tue 3 Sep, 2019
امریکا کی جانب سے نظر میں رکھے جانے والے ایران کے تیل بردار بحری جہاز "ایڈریان ڈاریا 1" (سابق نام گریس 1) نے 15 سے زیادہ گھنٹوں سے اپنا ٹریکنگ سسٹم روک دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان شکوک کو ایک بار پھر تقویت مل رہی ہے کہ یہ جہاز شام کا رخ کرنے کے درپے ہے۔
مذکورہ جہاز نے پیر کی شام اپنا خود کار شناخت کا نظام بند کر دیا تھا اور اس کے بعد سے دوبارہ نہیں کھولا۔
سمندروں میں جہازوں کی نقل وحرکت کا سراغ لگانے والی ویب سائٹ ’میرین ٹریفک ڈاٹ کام‘ نے پیر کے روز بتایا تھا کہ ایڈریان ڈاریا 1 ( سابق نام گریس 1) آہستہ روی سے محو سفر ہو کر لبنان کے ساحلوں کے نزدیک ہے۔ اس سے قبل کئی رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ یہ جہاز شام کی بندرگاہ طرطوس کی سمت جانے کے درپے ہے۔
جہاز کے خود کار شناخت کے نظام نے چند روز قبل یہ ظاہر کیا تھا کہ تیل بردار جہاز یونان اور ترکی جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
تاہم ترک وزیر خارجہ نے چند دن پہلے یہ کہا تھا کہ یہ جہاز لبنان جائے گا مگر لبنانی حکام کی جانب سے تردید کے بعد ترک عہدے دار نے اپنا بیان واپس لے لیا تھا۔
ادھر "ایران انٹرنیشنل" چینل نے ہفتے کے روز ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا تھا کہ ایرانی تیل بردار جہاز "ایڈریان ڈاریا 1" کے مالک نے اس جہاز کا تیل ایک لبنانی کمپنی کو فروخت کر دیا ہے۔ بعد ازاں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے باور کرایا کہ یہ جہاز شام میں ایک ریفائنری کی جانب جا رہا ہے۔ پومپیو کا دعوی تھا کہ یہ جہاز 13 کروڑ ڈالر مالیت کا 21 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل اتارنے کے لیے طرطوس کا رخ کرے گا۔
ایرانی ذمے داران نے اعلان کیا تھا کہ جہاز پر لدی تیل کی کھیپ فروخت کر دی گئی ہے تاہم انہوں نے خریدار کی شناخت اور جہاز کی منزل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
دوسری جانب امریکا خطے کے ممالک کو خبردار کر چکا ہے کہ وہ ایرانی تیل بردار جہاز ایڈریان ڈاریا 1 کو قبول نہ کریں۔ امریکی وزارت خزانہ نے جمعے کے روز اس جہاز کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔
برطانیہ نے 4 جولائی کو اس تیل بردار جہاز کو جبل طارق کے نزدیک تحویل میں لے لیا تھا۔ اس جہاز کو یورپی یونین کی شام پر پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں تحویل میں لیا گیا۔ بعد ازاں جبل طارق کے حکام نے 15 اگست کو ایرانی تیل بردار جہاز چھوڑ دیا تھا جس کے بعد وہ غیر متعین منزل کی جانب چل پڑا۔