مولانا سید ارشاد علی ندوی ۔  مشفق استاد ، عزت نفس کے پیکر ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری

06:53PM Mon 17 Apr, 2017

ٓ آج مورخہ ۱۷-اپریل خبر آئی ہے کہ مولانا سید ارشاد علی ندوی صاحب  مالوہ کے قصبہ دیواس میں  اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ اندازا آپ نے عمر عزیز کی ﴿۷۸﴾سال اس دنیا ئے فانی میں گزارے ۔مولانا سے ہماری آخر ی ملاقات کوئی دو سال قبل ہوئی تھی ، جب ہمارے عزیز مولانا محمد الیاس ندوی صاحب کی قیادت میں تعلیم و تربیت کے میدان سے وابستہ تیس علماء پر مشتمل وفد جنوب سے شمال تک کے مولانا سید ابو الحسن ندوی اسلامک اکیڈمی سے وابستہ اداروں  کی کارکردگیوں سے آگاہی کے لئے نکلا تھا ، اور اندور پہنچنے پر خاص طور آپ کی رہائش  کا پتہ لگاتے لگاتے آپ کے قصبے پہنچا تھا ، مولانا اس وقت ایک چھوٹے سے دو منزلہ مکان کی بالائی منزل پر اپنے رہائشی کمرے میں نماز پڑھ رہے تھے ، اس وقت آپ کے دونوں پاؤں شل تھے ، جسم پر بھی علالت اور بیماری کے آثار نمایاں تھے ، لیکن  آپ کی باتوں سے پتہ چلا کہ ایک ایسی بستی میں جہاں ان کا کوئی عزیز یا رشتہ دار نہیں تھا، اڑوس پڑوس میں  رہنے والے کیا مسلم اور کیا ہندو ہر کوئی آپ سے عقیدت اور محبت رکھتا تھا ، اور اپنے کسی باپ کی طرح آپ کی خدمت کرنے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتا تھا ، ملاقات پر جن احباب سے دو چار سال قبل بھٹکل آمد پر ملاقات ہوئی تھی انہیں تو مولانا نے فورا پہنچان لیا ، لیکن چونکہ کوئی پچیس سال بعد آپ سے ملاقات ہوئی تھی تو  ہمیں پہنچاننے میں انہیں کچھ  دیر لگی ، لیکن جب  پہنچان گئے تو اپنے محسن سابق ناظم جامعہ جناب الحاج محی الدین منیری علیہ الرحمۃ کا تذکرہ کرکے جذباتی سے ہوگئے ۔ اگر احباب ساتھ نہ ہوتے تو شاید مجھے بھی مولانا کو پہنچاننے میں مشکل ہوتی ، کیونکہ مولانا کو جس حال میں آخری بار دیکھا تھا اس میں اور آج کی شکل و صورت  میں نمایاں فرق ہوگیا تھا ، عمر رفتہ اور پے درپے بیماریوں نے بھرے پرے جسم کو ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بنادیا تھا ، لیکن اس سے روحانی ترقی نے بلندیوں ہی کے مزید  مراحل طے کئے تھے ۔

مولانا کو ہم نے پہلے پہل ۱۹۷۲ء میں دیکھا تھا ، کالج کی گرمائی تعطیلات میں جب  وطن آنا ہوا  تو مولانا کی جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں نئی نئی بحیثیت مہتمم  تقرری ہوئی تھی ،  آپ کی عمر اس وقت اکتیس بتیس کے پیٹھے میں رہی ہوگی ۔ چہرہ کتابی ، اس پر گھنی سیادہ ڈاڑھی ، ناک ستواں ، رنگ کھلاہوا،  آنکھوں میں کشش، اردو زبان گھر کی لونڈی ، وضع قطع سے ایک مہذب گھرانے کے فرد لگتے تھے ۔ ایسی شخصیت اپنے اندر جاذبیت نہ رکھے کیوں کر ناممکن تھا ؟۔

مولانا جب جامعہ میں تشریف لائے تو اپنے ساتھ کئی ایک برکتیں لے کر آئے ، آپ کے دور میں جامعہ میں پنجم عربی اور ششم عربی کے درجات کا اضافہ ہوا ، اس سے پہلے طلبہ کو سہولت ہوتی تو عربی چہارم کے بعد اعلی تعلیم کے لئے ندوۃ العلماء یا کسی دوسری بڑی درسگاہ میں داخلہ لیتے ، یا پھر تعلیم منقطع کرکے تلاش معاش سے لگ جاتے ، اسی دور میں جامعہ میں درجہ حفظ کا آغاز ہوا ، جس میں مولانا عبد السمیع کامل مرحوم نے خدمات انجام دیں ۔

مولانا کی پیدائش مدھیہ پردیش کے ضلع ﴿رائے گڑھ﴾ کے شہر ﴿ نرسنگ گڑھ﴾ میں ہوئی تھی ، آپ کے والد ماجد کا نام سید مراد علی تھا ، آپ کا آبائی تعلق قنوج کے عطر کشید کرنے والے حسینی خانوادے سے تھا ، آپ کی ابتدائی تعلیم دارالعلوم تاج المساجد بھوپال میں ہوئی ، جہاں آپ کے اساتذہ میں مولانا یعقوب بیگ ندوی مرحوم رہے ، جو کہ مولانا عبد الحمید ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی سبکدوشی کے بعد ۱۹۶۸ء میں مختصر عرصہ کے لئے  جامعہ کے مہتمم بھی رہے  تھے ۔ آپ نے   ندوۃ العلماء سے  عالمیت اور پھر فضیلت میں تخصص فی الادب  میں تکمیل کی ۔

اور سند حاصل کرنے کے لئے علامہ اقبال اور رومی کے موازنہ پر مقالہ لکھا۔ مولانا کا ادبی مذاق بہت اعلی تھا ، آپ سے سنتے آرہے تھے کہ مصباح اللغات کے طرز پر ا یک بڑی ردو عربی لغت تیار کررہے ہیں ، اس  کا مسودہ بھی دکھایا تھا ، غالبا وہ اس پروجکٹ کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے ۔

مولانا کے ساتھ ساتھ بھوپال سے کئی ایک اہل علم اور اساتذہ نے بھٹکل کو اپنی صلاحیتوں سے سیراب کیا ، ڈاکٹر سید انور علی  پرنسپل انجمن کالج کا ٹونک کے علاوہ بھوپال سے بھی  رشتہ تھا ، آپ کے ساتھ مولانا منصور علی ندوی  ، پروفیسر عمر حیات خان غوری ، پروفیسر قریشی وغیرہ بھی یہاں آئے ، اور بھٹکل کے تعلیمی اداروں میں علمی و ادبی ماحول پیدا کرنے میں اپنا یوگدان دیا ، اس زمانے میں شعری و ادبی نشستیں یہاں پ منعقد ہوتی رہتی تھی ،مولانا بھی ان نشستوں کے ایک  اہم رکن  رکین تھے ، کبھی کبھار خاطر علوی کے تخلص سے بھی  کلام موزون کرتے تھے ۔جامعہ جب تک شمس الدین سرکل پر واقع جوکوکو مینشن میں رہا تین سال تک یہاں پر آپ منصب اہتمام پر فائز رہے ، ۱۹۷۴ء میں جامعہ آباد منتقلی کے بعد مولانا شہبازاصلاحی مرحوم کے ہاتھ میں اہتمام کی باگ ڈور منتقل ہوئی ، ۱۹۷۶ء میں شہباز صاحب کی روانگی اور ندوۃ العلماء میں تدریسی خدمات سے وابستگی  کے بعد سرپرست اعلی جامعہ حضرت مولانا سید ابرار الحق رحمۃ اللہ علیہ نے مولانا ارشاد صاحب کو جامعہ کنجی سونپنے کی ہدایت کی ۔ ان ایام میں حضرت مولانا نے بحیثیت سرپر ست تمام تدریسی عملہ کو اکٹھا کرکے بڑی موثر نصیحتیں کی تھیں ، اس موقعہ پر بحیثیت ایک مدرس کے اس ناچیز کو بھی شرکت کا موقعہ ملاتھا ، مولانا نے اس بات پر سخت صدمہ کا اظہار کیا تھا کہ انہیں سرپرست اعلی جامعہ کہا جاتا ہے ، لیکن جب پانی سر سے اوپر ہوجاتا ہے تو انہیں مطلع کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ کوئی حل نکالیں ، اس وقت آپ نے اساتذہ کو ہدایت کی تھی کہ یہاں کے حالات اور درپیش شکایتوں سے بر وقت مطلع کرتے رہیں ،  مولانا سید ارشاد علی مرحوم آپ سے بیعت تھے ، بعد کے دو ڈھائی سال کے دوران  محسوس ہوا کہ جامعہ کے معاملات میں  حضرت سے آپ کا مستقل رابطہ رہتا ہے ، اور حضرت آپ کی باتوں پر اعتماد  بھی کرتے ہے ، اور جامعہ کے تعلیمی و تربیتی صورت حال سے متعلق آپ تک کوئی بات پہنچتی ہے تو آپ کے توسط سے بھی اس کی تصدیق  بھی کی جاتی ہے ۔

مولانا  غالبا ۱۹۸۶ء تک جامعہ میں تدریس سے وابستہ رہے ، آپ نے اپنی آنکھوں سے جامعہ کو ترقی کرتے یہاں سے عالمیت کی تکمیل کرنے والی  پہلی جماعت نکلتے دیکھا، اس دوران آپ نے  تفسیر بیضاوی جیسی اعلی کتابیں بھی یہاں پڑھائیں ۔ تفسیر کے درس میں خصوصیت سے ندوے میںآپ کے استاد اور  امام التفسیر حضرت مولانا محمد اویس نگرامی علیہ کے افادات عالیہ سے بھی اپنے طلبہ کو مستفید کرتے رہے ۔ یہاں پر آپ نے آندھی ہو یا طوفان ، سردی ہو یا گرمی کسی کی بھی پروا نہ کی ، طلبہ کو مستفید کرنے اور ان کے اوقات کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے سب کچھ قربان کردیا ۔ ابنائے جامعہ میں اب بھی کئی ایک اس بات کے  شاہد فارغین  مل جائیں گے جب پاؤں پر کھولتا ہوا تیل پڑنے کی وجہ سے آپ  اسپتال میں صاحب فراش ہوگئے تھے ، تب انہیں کلیلہ و دمنہ  پڑھانے کے لئے اسپتال  بلاتے تھے ۔ ایسے مشفق اساتذہ کو ہم  اب کہاں  ڈھونڈیں ؟

مولانا کی ماہانہ تنخواہ جب تین چار سو روپئے  سے زیادہ نہیں تھی ، اور بیوی اور تین چار بچوں کی جملہ ضروریات ان میں  پوری کرنی ہوتی تھی ،  تب بھی ن کئی ایک خوش حال افراد سے زیادہ آپ خوش حال محسوس ہوتے تھے ،  وقتا فوقتا مہمان نوازی  اور رفقاء و طلبہ کو کھلانے پلانے کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا ، خاص طور پر موسم باراں میں بیل کا پایہ ،قلچے ، پھلکے اور بھجیوں کی دعوتوں کا چٹخارہ  تیس چالیس سال گزرنے کے باجود کل کی بات لگتی ہے ۔

مولانا قائم اللیل تھے ، ذکر و اذکار کے پابند تھے ، مدرسے کے اوقات ختم ہونے پر دور کسی گوشہ تنہائی میں ذکر بالجہر کرتے  ہوئے سنائی دیتے تھے ۔ بھٹکل سے جانے کے بعد آپ نے میسور  اور اپنے علاقوں میں تدریسی خدمات انجام دیں ۔کبھی عزت نفس کو ہاتھ سے جانے نہ دیا ، ہماری آنکھوں سے اس وقت  آنسو  آگئے جب معلوم  ہوا کہ ایسی حالت میں جب میاں بیوی دونوں بیماریاں جھیل رہے ہیں ۔ قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں میں کوئی پرسان حال نہیں ، اور ضرورت مند بھی ہیں، لیکن جب پتہ چلا کہ ان کے فرزند سے کچھ مالی بے ضابطگیاں سرزد ہوئی ہیں تو اس کی گاڑی پر بیٹھنے اور اس کے پیسے اپنی ذات پر صرف کرنے سے نہ صرف  انکار کردیا ،  بلکہ اپنے دوست احباب کو خطوط لکھے کہ ا آپ سے تعلق کی بنیاد پر  اسے کوئی چندہ یا تعاون نہ دیا جائے ۔ اللہ کی ذات سے امید ہے جس نے اپنے اور اپنے بچوں کے پیٹ میں رزق حلال جانے کے لئے اپنا سب کچھ داؤں پر لگا دیا ہو۔ جس نے نصف صدی سے زیادہ قال اللہ و قال الرسول کے موتی لٹانے میں صرف کیا ہو ، آخر کیوں کر رحمت خداوندی اسے اپنے گھیرے میں نہیں لے گی ۔ اور اس دعوت کے ساتھ استقبال نہیں کرے گی کہ

﴿اے نفس مطمئن  چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اپنے انجام نیک سے خوش اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ ہے ، شامل ہوجا میرے نیک بندوں میں اور داخل ہوجا میری جنت میں﴾

۔

17-04-2017

ammuniri@gmail.com