پاکستان،چین جیسے ہمسایوں کی وجہ سے دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوا،بھارتی ماہر

02:01PM Thu 2 Feb, 2017

نئی دہلی۔(بھٹکلیس نیوز)رتی دفاعی امور کے ماہر اور تجزیہ کموڈور اودے بھاسکر نے کہاہے کہ انڈیا کی سٹریٹیجک صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف تو چین ہے، جس سے سنہ 62 میں جنگ ہوئی، اس کے ساتھ سرحدی اختلافات ہیں اور اس کی ایک اپنی تاریخ ہے۔ دوسری جانب پاکستان ہے جس کے ساتھ چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ تو اس پس منظر میں اسے کئی طرح کے چیلینجز اور مسائل کا سامنا ہے چونکہ بھارت مقامی سطح پر ہتھیار بنانے میں خود کفیل نہیں ہے اس لیے بیرونی ممالک سے ہتھیار خریدنا اس کی ایک مجبوری ہے۔جدید ہتھیاروں اور دفاعی سازو سامان کی تیزی سے خریداری انڈیا کی مجبوری ہے اسے لیے بڑے دفاعی بجٹ کی ضرورت ہے۔برطانوی ٹی وی سے بات چیت میں انہوں نے کہاکہ امریکہ کا سالانہ دفاعی بجٹ تقریباً 600 ارب ڈالر ہے۔ چین کا تقریباً 100 ارب ڈالر ہے جبکہ انڈیا کا تقریباً 45 ارب ڈالر ہے تو سٹریٹیجک نکتہ نظر سے یہ کوئی بہت زیادہ بجٹ نہیں ہے۔ان کہنا تھا کہ بھارت مسلسل تقریباً 10 فیصد سے اپنے سالانہ بجٹ میں اضافہ کرتا رہا ہے۔ لیکن اس کا ایک بڑا حصہ افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح کی نظر ہو جاتا ہے۔ دوسری جانب بحریہ، فضائیہ اور بری فوج کے لیے جدید ترین ہتھیار اور ساز و سامان کی خریداری اس کی مجبوری بھی ہے۔کموڈور ادے بھاسکر نے بتایاکہ انڈیا کی سٹریٹیجک صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف تو چین ہے، جس سے سنہ 62 میں جنگ ہوئی، اس کے ساتھ سرحدی اختلافات ہیں اور اس کی ایک اپنی تاریخ ہے۔ دوسری جانب پاکستان ہے جس کے ساتھ چار جنگیں ہو چکی ہیں۔ تو اس پس منظر میں اسے کئی طرح کے چیلینجز اور مسائل کا سامنا ہے۔ مستقبل میں انڈیا کے دفاعی اخراجات میں اور اضافے کا امکان ہے اور جلد ہی یہ 50 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ادے بھاسکر کے مطابق ان تمام کوششوں کے باوجود بھی کئی محکموں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے جسے پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔بھارت کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ جنگی ہتھیار خریدنے والے ملکوں میں ہوتا ہے اور آئندہ برسوں میں فوج کی جدیدکاری کے لیے بڑے پیمانے پر ہتھیار اور ساز و سامان خریدنے کا منصوبہ ہے۔