جمعیت علمائے ہند کی ہنگامی میٹنگ

01:08PM Thu 24 Aug, 2017

جمعیت علمائے ہند کی ہنگامی میٹنگ ،عدالتی فیصلہ کو خلاف شریعت اور ملت اسلامیہ کے لیئے باعث تشویش قرار دیا گیا نئی دہلی ۔جمعیت علماء (محمود گروپ)نے بدھ کو ایک ہنگامی میٹنگ طلب کرکے سپریم کورٹ کے فیصلے پر غوروخوض کیا اور اسے خلاف شریعت نیزملت اسلامیہ کے لیئے باعث تشویش قرار دیا۔اس سے قبل جمعیت علماء ہند ارشد مدنی گروپ نے منگل کو ہی اپنے ردعمل کا اظہار کر چکا ہے ۔مولانا ارشد مدنی نے فیصلہ کو شریعت کے منافی قرار دیا اور کہا کہ اس سے مسلمانوں کو فرق نہیں پڑے گا جو دیندار ہیں،،جمعیت علمائے ہند نے جوہنگامی میٹنگ طلب کی تھی اس میں مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری ،مولانا محمود مدنی ،اور دیگر ذ مہ داران موجود تھے۔میٹنگ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے عواقب ومضمرات کا جائزہ لیتے ہوئےمتفقہ طور پر اسے شریعت کے خلاف اور ملت اسلامیہ کے لیئے سخت قابل تشویشناک قرار دے دیا گیا ۔میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں جمعیت کے موقف کا اعلان کیا گیاجس کے مطابق عدالت نے جہاں ایک نشست کی3 ،طلاقوں کو کا لعدم قرار دے دیا ہے وہیں مسلم پرسنل لاء کو دستور کے تحت بنیادی حق تسلیم کر تے ہوئے اس کے تحفظ کی ضمانت کا اعادہ کیا گیا  اور جمعیت علمائے ہند  نے یہ بھی واضح کیا  ہے کہ ،ہمارے مذھبی حقوق جنکی دستور نے ہمیں ضمانت دی ہے اور جو ہمارے بنیادی حقوق کا حصّہ ہے اس پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ہماری یہ جدوجہدہر سطح پر جاری رہے گی،،جمعیت نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ طلاق سے اجتناب کریں کیونکہ شریعت کی نظر میں یہ مبغوض ترین چیز ہے اور خاص کر ایک مجلس کی  تین طلاق سے بہر حال اجتناب ضروری ہے تا کہ غیروں کو مداخلت کا موقع نہ ملے