معصوم بچپن میں بڑھاپے کا بوجھ
06:36PM Wed 28 Aug, 2013
یہ چودہ برس کا لڑکا ہے، لیکن اس کا جسم 110 سال کے بوڑھے کی مانند ہوچکا ہے، اس لیے کہ اس کو ایک ایسی انوکھی بیماری لاحق ہے جس کے باعث اس کا جسم عام طور پر انسانی نشونما کے برعکس آٹھ گنا زیادہ تیزی سے اس کو بوڑھا بنا رہا ہے۔
علی حسین اپنے
پانچ بھائی بہنوں کی مانند دکھائی دیتا ہے، جواسی بیماری میں مبتلا ہوکر وفات پاگئے تھے۔اس بیماری کو پروگیریا کہا جاتا ہے، اس بیماری میں مبتلا لوگوں کی دنیا بھر میں تعداد صرف 80 ہے۔علی حسین کے دو بھائی اور تین بہنیں اسی مرض میں مبتلا ہوکر وفات پاچکے ہیں۔ہندوستان کی ریاست بہار کے شمالی علاقے میں چھپرہ قصبے کی ایک مفلوک الحال خاتون رضیہ کے چھ بچوں کو یہ عجیب اور نایاب بیماری لاحق تھی، چھ میں سے باقی بچے وفات پاچکے ہیں اور علی حسین کا جسم اب زندگی کی آخری دہلیز پر آن گیا ہے۔ رضیہ کے سب سے بڑے بیٹے محمد اکرام کی موت 2010ء میں انتہائی بے بسی کی حالت میں سرکاری اسپتال میں ہوئی تھی۔پروگیریا ایک سنگین اور جان لیوا بیماری ہے، جو پیدائش کے ساتھ ہی لاحق ہوتی ہے۔ اس مرض سے جسمانی ساخت متاثر ہو جاتی ہے اور اس کی نشوو نما بھی انتہائی تیز رفتار ہوجاتی ہے۔پروگیریا اب تک لاعلاج مرض ہے اور جو بچے اس مرض میں مبتلا ہو تے ہیں وہ 13، 14 سال سے زیادہ زندہ نہیں ر ہتے۔ کچھ 22 اور 25 سال کی عمر کو بھی پہنچ جاتے ہیں لیکن قد و قامت کے لحاظ سے وہ آٹھ یا دس سال کے ہی نظر آتے ہیں۔ ایسے مریضوں کے چہرے پر جھریاں پڑ جاتی ہیں اور سر گنجا ہو جاتا ہے۔پروگیریا ایک انتہائی نایاب مرض ہے اور پوری دنیا میں اس طرح کے صرف 80 مریض ہیں اور ان میں سے بھی پانچ بھی ریاست بہار کے چھپرہ کے گاؤں سے ہی تعلق رکھتے تھےہیں اور یہ سب کے سب بدقسمت رضیہ کے بیٹے تھے،اب علی حسین زندگی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔
