مذہب اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے فرقہ پرست تنظیمیں خوف زدہ ہیں کہ کہیں ہندوستان کے غیر مسلم بھی مشرف بہ اسلام نہ ہو جائیں

04:53PM Mon 5 Jun, 2017

میسور میں میسور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے سابق چیرمین جے یم عروج کا بیان میسور :(بھٹکلیس نیوز) یہاں میسور میں ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے میسور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے سابق چیرمین جے یم عروج نے بتایا ہے کہ سارے عالم میں مذہب اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے ہندوستان کی فرقہ پرست تنطیمیں خوف زدہ ہیں کہ کہیں ہندوستان میں بھی غیر مسلم کثیر تعداد میں مشرف بہ اسلام نہ ہو جائیں کیونکہ آج کل بیرونی ممالک جیسے فرانس، امریکہ اور انگلینڈ وغیرہ میں غیر مسلموں کی کثیر تعداد مذہب اسلام میں شامل ہورہے ہیں۔ اس لئے ہمارے دیش میں موجود فرقہ پرست تنظیمیں جیسے ہندومہاسبھا ، سناتن سبھا، بجرنگ دل، آر یس یس اور ہندو وشواہندو پریشد ملاکر بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کی حکمران پارٹی کا بس ایک ہی ایجنڈا ہے۔ ہندوستان ہندو راشٹرا بن جائے۔ اور یہ فرقہ پرست اسکے اصل مالک بن جائیں۔ جے یم عروج نے مزید بتایا ہے کہ بیرونی ممالک میں آج کل مذہب اسلام میں غیر مسلموں کی شمولیت بام عروج پر ہے۔ آج ملک میں مسلمانوں کی تعداد دوسرے نمبر پر ہے۔ اگر آر یس یس گروپ کی حکمرانی کے مووجودہ تشدد بربریت ، غنڈہ گری ، نوٹ بندی ، معصوموں پر ظلم، خواتین کی زبردستی ، عصمت ریزی کی حد یہ کہ 5سال سے بھی کم عمر کی لڑکیوں پر درندگی کی کوئی مثال نہیں مل رہی ہے۔ اس ماحول سے تنگ آگر دلت ،عیسائی، وغیرہ ملاکر اگر پسماندہ طبقات اسلام قبول کرلینگے تو یہ فرقہ پرست عناصر لاغر ہوجائینگے۔ پھر 1947کی ملک کی آزادی کے انقلاب کا دوسرا انقلاب خود ہی آغاز ہوجائیگا۔ اسی لئے مسلمانوں کے مذہبی معاملات کی پیچدگیوں کو جیسے طلاق ثلاثہ کے تحت خواتین پر ظلم اور تشدد کا مسئلہ ایک گہری سازش کے تحت اجاگر کرکے ٹی وی چینلوں پر وائرل کررواکرپرنٹ میڈیا کے تعاون سے مسلمانوں کو پرپوری طرح سے دہشت گرد ثابت کرکے ہندو مسلم کے موجودہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے پر امن ماحول کو خوف اور دہشت میں تبدیل کرکے ملک کے غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام ہونے سے روکا جارہا ہے۔بیرونی ممالک میں ہر ایک مسجد میں ایک دفتر ہوتا ہے جہاں پر مذہب اسلام میں دلچسپی رکھنے والے غیر مسلم احباب مقررہ اوقات میں وہاں پہنچ کر اسلام کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور کوئی غلط فہمی ہو تو اسکو سوال جواب کے ذریعہ اپنی غلط فہمی کو دور کر لیتے ہیں۔ اور اسلام جو خلوص اور ایثار کے ذریعہ پھیلا ہے ان وسائل کی جانکاری حاصل کرکے اسلام کے رسم و رواج اور عبادت و اطاعت اور توکلت علٰ اللہ کی قبولیت اور قدرت کی نوازشوں اور ہندؤں پر اللہ کے بے نیاز نوازشوں سے متاثر ہوکر تہہ دل سے مشر بہ اسلام ہورہے ہیں۔ اگر اسی طرح ملک بھر کی مساجد وں میں مسجد کے بغل میں ایک غیر مسلم ملاقاتی حال کا انعقاد کرکے ہم مسلمانوں سے حکمت عملی کو اپنائینگے۔ تو ملک کے فرقہ پرستوں کی سازشانہ حکمت کا خانہ خراب ہوجائیگا اور مسلم ، دلت ، عیسائی وغیرہ پسماندہ ہی نہیں غیر مسلم تعلیم یافتہ طبقے کے عوام میں بھی ایک عظیم الشان قلع تعمیر ہوجائیگا۔ طلاق ثلاثہ ، گاؤکشی ، جانوروں کی خرید و فروخت عام نہ کرنے اور انسداد و میو برگیڈ ووغیرہ ظلمت کے کے شاخسانے خود ہی مخالف اکثریتی کے آگے سرنگوں ہوجائینگے۔ اور ملک میں امن و شانتی اور خوشحال کا ماحول پھر سے شامل ہوجائیگا۔ اچھے دن اور 15لاکھ روپیوں کاا لالچ دے کر ملک کے عوام کے ساتھ فریب اور دھوکہ بازی کرکے مرکزی اقتدار حاصل کرکے آج عوام نظروں سے گرے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کمپنی کی گھر واپسی کا مکمل انتظام خود بخود ہوجائیگا۔