سکھ مخالف فسادات: سجن کمار کو عمرقید، فیصلہ سناتے ہوئے رو پڑے جج

12:07PM Mon 17 Dec, 2018

نئی دلی۔ 1984 کے سکھ مخالف فسادات معاملے پر دلی ہائی کورٹ نے فیصلہ الٹ دیا ہے۔ کانگریس لیڈر سجن کمار کو عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہیں 31 دسمبر تک خودسپردگی کرنا ہوگی۔ عمرقید کے علاوہ سجن کمار پر پانچ لاکھ روپئے کا جرمانہ کا بھی عائد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ باقی مجرموں کو جرمانہ کے طور پر ایک۔ ایک لاکھ روپئے دینے ہوں گے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، جس وقت فیصلہ پڑھا جا رہا تھا متاثر فریق کے وکیل رونے لگے۔ یہی نہیں، فیصلہ پڑھتے ہوئے جج کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
 سزا سناتے ہوئے جج نے کہا کہ کئی دہائیوں سے لوگ انصاف کا انتظار کر  رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جانچ ایجنسیوں کی ناکامی ہے کہ اب تک اس معاملہ میں کچھ نہیں ہوا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد یکم نومبر 1984 کا ہے۔ دہلی چھاونی کے راج نگر علاقے میں ایک خاندان کے پانچ افراد کا قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں باقی لوگوں کو پہلے ہی قصوروار قرار دیا جا چکا ہے۔ جسٹس ایس مرلی دھر اور جسٹس ونود گویل کی بینچ نے 29 اکتوبر کو سی بی آئی، فساد زدگان اور مجرموں کی طرف سے دائر اپیلوں پر دلیلیں سننے کا کام پورا کرنے کے بعد فیصلہ کو محفوظ کر لیا تھا۔ مجرموں نے مئی 2013 میں آئے نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ سی بی آئی نے بھی اپیل دائر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا  کہ وہ 'منظم فرقہ وارانہ فسادات' اور مذہبی طور پر صفایا کرنے‘ میں ملوث تھے۔ ایجنسی اور متاثرین نے کمار کو بری کئے جانے کے خلاف بھی اپیل دائر کی تھی۔