بلیک منی کی روک تھام کے نام عوام کو ہونے والی پریشانیاں ناقابلِ برداشت
03:53PM Tue 15 Nov, 2016
کیا پچاس دنوں تک لوگوں کو بھوکے مارنے کا ارادہ ہے؟وزیراعظم سے عارف نسیم خان کا سوال
ممبئی۔(ایف او یس ) اپنی خود کی رقم حاصل کرنے کے لئے بینکوں اور اے ٹی ایم کے سامنے لوگوں کی طویل قطاروں نے ملک میں معاشی ایمرجنسی جیسی صورت حال پیدا کردی ہے اور اس درمیان مودی جی کا عوام سے پچاس دن مانگنے کا مطلب اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ یہ صورت حال آئندہ پچاس دنوں میں بھی ختم نہیں ہوپائے گی اور لوگوں کو بھوکے مرنے کی نوبت آجائے گی۔بلیک منی کے روک تھام کے نام پرعوام کو ہونے والی پریشانیاں ناقابلِ برداشت ہیں، حکومت فوراً اس کا کوئی حل نکالے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر اور سابق وزیرمملکت عارف نسیم خان نے کہی ہیں بینکوں کے سامنے عوام کی طویل قطار اور ان کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے کہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلیک منی کی روک تھام کے نام پر حکومت خود بلیک منی کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ اگر وہ بلیک منی کے معاملے میں اتنی ہی سنجیدہ ہے تو اسے پارلیمانی الیکشن میں خرچ کئے گئے روپییوں کا حساب دینا چاہئے اور یہ بھی بتانا چاہئے کہ دوہزار روپئے جاری ہونے سے قبل اس کے لیڈران کے پاس دوہزار کے نوٹوں کی گڈیاں کس طرح آگئیں۔ واضح رہے کہ بی جے پی پنجاب کے لاء اینڈ لیگل افیئرس ڈپارٹمنٹ کے کو کنوینر ایڈووکیٹ سنجیو کمبوج نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ۵ نومبر کو ہی دوہزار روپئے کے نوٹوں کی گڈی کی تصویر شیئر کی تھی جبکہ وزیراعظم مودی کے مطابق یہ نوٹ ۸ نومبر سے قبل جاری ہی نہیں کئے گئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم نے اپنے لوگوں تک دوہزار کے نوٹ جاری ہونے سے قبل ہی پہونچادیا تھا اور انہیں یہ بھی بتادیا تھا کہ پانچ سو اورایک ہزار کے نوٹ بند کئے جائیں گے، جس سے انہوں نے اپنا اپنا انتظام قبل ازوقت ہی کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ بلیک منی کی روک تھام کے لئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے تمام اقدامات کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں لیکن عوام کو گمراہ کرکے، انہیں دن دن بھر قطاروں میں کھڑا کرکے اگر بلیک منی پر روک لگانے کا نعرہ دیاجارہا ہے تو ہم اس کے سخت خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے راشن کی دوکانوں، میڈیکل اسٹورں، پٹرول پمپ وغیرہ کو پرانے نوٹ لینے کو کہا ہے مگر حقیقی صورت حال یہ ہے کہ ایک غریب آدمی اگر ان جگہوں پر پرانے نوٹ لے کر جاتا ہے تو اسے پانچ سو روپئے کی خریداری کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ پرانے نوٹوں کی تاریخ میں جو توسیع کی گئی ہے وہ کسی طور پر کافی نہیں ہے۔ اس میں مزید توسیع ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں زبردست ناراضگی ہے کیونکہ لوگ اپنی خود کی گاڑھی کمائی بینکوں سے حاصل نہیں کرپارہے ہیں۔ اس ناراضگی میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے جس کا جیتا جاگتا ثبوت بینکوں کے باہر بی جے پی کے ذریعے تقسیم کئے جانے والے کھانے پینے کی اشیاء کو لوگوں کا لینے سے انکار کرنا ہے۔ یہ صورت حال ان تمام جگہوں کی ہے جہاں لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔ نسیم خان نے مزید کہا کہ جب سے نوٹوں پر پابندی عائد ہوئی ہے اس وقت سے اب تک ۱۸؍سے زائد لوگ اپنی جان گنواچکے ہیں اور اس پر بھی وزیراعظم لوگوں سے مزید پچاس دن مانگ رہے ہیں۔ میں وزیراعظم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخراس پچاس دنوں میں مزید کتنے لوگوں کو بھوکا پیاسا رکھنے اور جان لینے کا ارادہ ہے۔