الیکشن لڑ رہے ممبران اسمبلی کی جائیداد میں پانچ سال میں 82 فیصد اضافہ ہوا: اے ڈی آر

12:56PM Wed 8 Mar, 2017

نئی دہلی (بھٹکلیس نیوز)اتر پردیش میں الیکشن لڑ رہے311 ممبران اسمبلی کی اوسط جائیداد گزشتہ پانچ سال میں 82 فیصدیا2.84 کروڑ روپے بڑھ گئی۔ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمس( اے ڈی آر) کی رپورٹ میں آج کہا گیا کہ پھر سے الیکشن لڑ رہے مختلف جماعتوں کے311 اراکین اسمبلی کی اوسط جائیداد سال 2012 میں 3.49 کروڑ روپے تھی لیکن اس سال یہ 6.33 کروڑ روپے ہے۔اس میں کہا گیاکہ اتر پردیش میں اس بار قسمت آزما رہے 311 ممبران اسمبلی کی اوسط جائیداد 2012 سے 2017 کے انتخابات کے درمیان 2.84 کروڑ روپے بڑھ گئی۔ اتر پردیش الیکشن واچ اور اے ڈی آر کی طرف سے مشترکہ طورپرکئے گئے تجزیہ کے مطابق بی ایس پی کے شاہ عالم عرف گڈوجمالی کی جائیداد سال2012 سے2017 کے درمیان سب سے تیز رفتار اضافہ ہوا۔ ان کی جائیدادمیں 64 کروڑ روپے کااضافہ ہوا۔ ان کے بعد بی ایس پی کے ہی نواب کاظم علی خان کی جائیدادمیں 40 کروڑ روپے اضافہ ہوا جبکہ سماج وادی پارٹی کے انوپ کمار گپتا کی جائیداد 35 کروڑ روپے اضافہ ہوا ۔اے ڈی آر کے جماعتی تجزیہ کے مطابق سماج وادی پارٹی کے162 اراکین اسمبلی کی اوسط جائیداد تقریباََ دوکروڑروپے اضافہ ہوا جبکہ بی ایس پی کے57 ممبران اسمبلی کی جائیدادمیں تقریباََچارکروڑ روپے اضافہ ہوا۔بی جے پی کے55 ممبران اسمبلی کی اوسط جائیدادمیں دوکروڑ روپے سے زیادہ اضافہ ہوا جبکہ کانگریس کے19 ممبران اسمبلی کی اوسط جائیدادمیں تقریباََ دوکروڑروپے اضافہ ہوا۔