ترکی میں بغاوت کے بعد 8 ہزار پولیس اہلکار رہا

04:43PM Mon 18 Jul, 2016

مغربی دنیا اور ہیومن رائٹس انجمنوں کو انسانی حقوق پامالی کا خدشہ ترکی کے ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ دارلحکومت انقرہ اور دوسری اہم شہر استنبول سمیت ملک کے مختلف شہروں سے پولیس کے آٹھ ہزار اہلکاروں کو تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان پولیس اہلکاروں کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ یہ جمعہ کے روز ملک میں ناکام فوجی بغاوت میں کسی نہ کسی طرح ملوث تھے۔ ترک حکومت نے یہ اقدام ناکام فوجی بغاوت کے بعد اٹھایا ہے۔ حکومت کی رائے میں اس بغاوت کا ماسٹر مائینڈ ملک میں متوازی حکومت کے دعویدار امریکا میں مقیم ترک اسلامی دانشور اور مبلغ فتح اللہ گولن ہیں، جو انقرہ کے ان الزامات کی صحت سے انکار کرتے ہیں۔ بعض مغربی ممالک اور انسانی حقوق کی انجمنوں نے ترکی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خدشتہ ظاہر کیا ہے کیونکہ ترک صدر نے ایک بیان میں عندیہ ظاہر کیا ہے کہ وہ سزائے موت کے قانون کو از سر نو روبعمل لا سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ترکی میں 2004ء سے سزائے موت پر پابندی عاید ہے۔ ترک وزیر انصاف باقر بوزداگ نے اتوار کی صبح ایک بیان میں تصدیق کی تھی کہ ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے شبے میں چھے ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں بڑی تعداد ۲۷۴۵ ججوں اور پراسیکیوٹر جنرل کی ہے۔