"دہشت کی سیاست کے خلاف متحد ہوں " 8تا 29اپریل SDPI کے ملک گیر مہم کا

02:14PM Sun 9 Apr, 2017

بنگلور میں افتتاحی اجلاس بنگلور (بھٹکلیس نیوز) آج ملک میں جمہوریت آزمائشی دور سے گذر رہا ہے۔ انتخابات کے عمل اور الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ فرقہ وارانہ صف بندی، فرقہ وارانہ منافرت، جیسے ہتکھنڈے سیاست میں استعمال ہورہے ہیں۔ اتر پردیش کے حالیہ انتخابات میں نیا کھیل دیکھنے کو ملا جہاں "مٹھ "کے سردار اور حکومت ایک ہوگئیں اور بھگوا کے بھیس کے تحت وزیر اعلی کا گھر مندر میں تبدیل ہوگیا ۔ نہ صرف سیاست اور مذہب کو تقسیم کیا جارہا ہے بلکہ سیاستدانوں کے لباسوں کو بھی الگ تناظر سے دیکھا جانے لگا ہے۔ جن لوگوں نے اور لیڈروں نے انتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیز اور نفرت آمیز تقاریر کی تھیں ان کو ہیرو کے طور پر پیش کیاگیا اور ' سب کا ساتھ سب کا وکاس 'کے نام پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی تباہ و بربا د کردیا گیا۔ شہروں میں مذبحہ خانوں کو بغیر کسی مناسب انکوائر ی کے بند کردیا گیا۔ ظالمانہ طور پر غریبو ں کے مذبحہ خانے بند کرکے ان کی روزی روٹی چھین لی گئی اور دوسری طرف میکانکل مذبحہ خانوں کو تمام سہولیات دیکر بلا کسی روک ٹوک اور پابندی کے ہزاروں جانور ذبح کرکے گوشت برآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بھوپال اور لکھنؤ میں نام نہاد انکاؤنٹر کلنگ کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں خوف و ہراس اور بداعتمادی پید اکی گئی ہے۔ طاقتورلوگوں کے اعتراف جرم کے باوجود انہیں رہا کیا جارہا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کے رپورٹوں کو توڑ مروڑ کے پیش کرکے عدلیہ کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف یہ بات عام ہوگئی ہے کہ معصوموں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر انہیں طویل عرصے تک جیلوں میں دھکیل دیا جارہا ہے۔اگرچہ ان کی بے گناہی ثابت ہونے کے باوجود انہیں انصاف سے محروم کیا جارہا ہے۔ بی جے پی سے تعلق رکھنے والے لوگ جبISIسے منسلک ہونے اور ملک مخالف سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار ہوتے ہیں ان کی حفاظت کی جارہی ہے اور ان پر ملک مخالف سرگرمیوں کے جرم میں نہ ہی کوئی کارروائی ہورہی ہے۔ دوسری طرف UAPAاور AFSPAجیسے کالے قوانین کا استعمال ایک خاص مذہب اور علاقے کے بنیاد پر معصوموں پر عائد کئے جاتے ہیں۔ ملک میں EVM ووٹنگ مشین پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور ملک کے عوام بیلٹ پیپر پولنگ سسٹم کا مطالبہ کررہے ہیں۔ایس ڈی پی آئی پارلیمانی جمہوریت کی بقاء اور مختلف طبقات کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کوئی بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ ایس ڈی پی آئی اپنے تمام کارکنان سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو مضبوط کرنے کے لیے فعال کردار نبھائیں۔ جمہوریت کے تئیں بیداری پیدا کرنے اورملک میں موجود خوف و ہراس کو ہٹا کر سیکولر ماحول کو فروغ دینے کے لیے ایس ڈی پی آئی مذکورہ قومی مہم کا انعقا د کررہی ہے۔ پارٹی قومی جنرل سکریٹری الیاس تمبے نے بنگلور پریس کلب میں اخباری نمائندوں کو خطا ب کرتے ہوئے ملک کے تمام شہریوں سے اپیل کیا کہ وہ اس تحریک میں شریک رہیں تاکہ ملک میں پھیل رہی دہشت کی سیاست کا خاتمہ کیا جاسکے ۔ قومی جنرل سکریٹری الیاس تمبے نے کہا کہ مہم کا افتتاح 8اپریل شام 6بجے کو بنگلور کے امبیڈکر بھون میں ہوگا۔ جس میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر اے سعید، پاپولرفرنٹ آف انڈیا کے چیئرمین ای ۔ ابوبکر، مہمانان خصوصی کے طور پر مولانا سجاد نعمانی ، ممبر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالحنان، پاپولرفرنٹ ریاستی صدرمحمد ثاقب شریک رہیں گے۔ مہم کے حصے کے طور پر عوامی اجلاس، کارنر میٹنگس، سمینار س، نکڑ ناٹک، وغیرہ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس پریس کانفرنس کے دوران قومی جنرل سکریٹری الیاس تمبے کے ہمراہ ریاستی سکریٹری اکرم حسن، بنگلور ضلعی صدر فیاض احمد اور بنگلور ضلعی کمیٹی رکن گنگپا شریک رہے۔