علی گڑھ سے رکن پارلیمنٹ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریزرویشن کی سیاست نہ کریں: ملت بیداری

11:43AM Tue 28 Jun, 2016

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا کیس عدالتِ عظمیٰ میں زیرِ غور ہے: ڈاکٹر جسیم محمد علی گڑھ28؍جون:ملت بیداری مہم کمیٹی ( ایم بی ایم سی ) علی گڑھ نے علی گڑھ کے رکن پارلیامنٹ مسٹر ستیش گوتم کے ذریعہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایس سی، ایس ٹی اور پسماندہ طبقات کے لئے کئے جانے والے ریزرویشن کے مطالبہ پر سخت ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسٹر ستیش گوتم کو بخوبی علم ہے کہ مذکورہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے پھر بھی وہ سستی شہرت و سیاست کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر الزامات عائد کر تے رہتے ہیں اور اس قسم کی بیان بازی کو انہوں نے اپنی عادت بنالیا ہے۔ ایم بی ایم سی کے سکریٹری ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک کی تاریخی درس گاہ ہے جس کے دروازے ہمیشہ بلا تفریقِ مذہب و ملت سب کے لئے کھلے رہے ہیں جو اس ادارہ کی سیکولراقدار کی دلیل ہے۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ علی گڑھ سے رکن پارلیامنٹ مسٹر ستیش گوتم اور ان کے حامیان کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کے لئے اس وقت کے قوانین کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں نے30لاکھ روپیہ حکومت برطانیہ کے خزانہ میں جمع کئے تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کا اصل مقصد ہندوستانی مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں طاقتور بنانا تھا تاکہ وہ ملک کی ترقی میں دیگر طبقات سے پیچھے نہ رہ سکیں ۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہمیشہ سے ہی50فیصدانٹرنل طلبأاور50فیصد باہری طلبأ کو داخلہ دیا جاتا رہا ہے جس میں سماج کے سبھی طبقات کی شمولیت ہوتی ہے ایسے میں مسٹر ستیش گوتم کے ذریعہ بے بنیاد بیانات جاری کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش سیاست کے سوا کچھ نہیں۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ علی گڑھ سے رکن پارلیامنٹ مسٹر ستیش گوتم خود علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے قابلِ احترام رکن ہیں اور اگر انہیں ایس سی؍ ایس ٹی اور پسماندہ طبقات کے لئے ریزرویشن کی اتنی ہی فکر ہے تو انہیں یہ معاملہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کی میٹنگ میں اٹھانا چاہئے تھا نہ کہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر کیونکہ اس سے ان کی پارلیامنٹ کی باوقار رکنیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ جہاں تک مرکزی حکومت کے ذریعہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو گرانٹ مہیا کرانے کا سوال ہے تو مرکزی حکومت ملک کی سبھی مرکزی یونیورسٹیوں کو گرانٹ مہیا کراتی ہے جو آئینی عمل ہے۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے علی گڑھ سے رکن پارلیامنٹ مسٹر ستیش گوتم سے اپیل کی ہے کہ وہ وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی کے ترقیاتی ایجنڈے اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کے تحت علی گڑھ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے مثبت کاکردگی انجام دیں اور کسی بھی بات کو سیاست سے نہ جوڑیں کیونکہ وہ علی گڑھ کے سبھی مذہبی طبقات کے نمائندہ ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مسٹر ستیش گوتم حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں گے اور علی گڑھ کی ترقی پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے۔