آپسی اتحاد مسلمانوں کے وجود کے خاتمہ کی سازش نا کام بنادے گا: جلال الدین عمری

05:56AM Sat 25 Mar, 2017

بسواکلیان :23؍مارچ (راست)مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند نے حالیہ اسمبلی انتخابات کے پس منظر میں مرکز جماعت اسلامی ہند کے ہفتہ واری اجتماع سے بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج ہم سب کیلئے قابل غور ہیں۔ اتر پردیش کے الیکشن کے بارے میں جو خیال ہے کہ نتیجہ بالکل اس کے برعکس نکلا۔ لوگوں کی تمام قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئیں اور یوپی میں بی جے پی کو 312نشستیں ملیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ بی جے پی برسر اقتدار آگئی ہے لوک سبھا میں تو اس کی اکثریت پہلے سے تھی اس بات کا عین امکان ہے کہ یوپی میں اتنی بڑی اکثریت حاصل کرنے کے بعد راجیہ سبھا میں بھی اکثریت حاصل ہوجائیگی ،اگر ایسا ہوا تو وہ کوئی بھی قانون بناسکتی اور اسے منظور بھی کراسکتی ہے ،چونکہ بی جے پی مسلمانوں کے خلاف ہے اس لئے ممکن ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف قانون بنائے ان کے پرسنل لا ء میں تبدیلی کردے۔مسلمانوں کی یہ تشویش بالکل فطری ہے ۔ملک میں ایک ایسی پارٹی برسراقتدار آگئی ہے جو مسلمانوں کے ملی اور تہذیبی وجود کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ ان حالات میں انہوں نے چند نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سنجیدگی سے مسائل کو دیکھنے کی ضرورت ہے ،مسائل کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کریں اور ان کے حل کیلئے حکمت عملی اختیار کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ نصب العین کے ساتھ کوشش کریں، جو کوششیں کی جارہی ہیں وہ نصب العین کے ساتھ نہیں کی جارہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس بات کی پوری کوشش کرنی چاہئے کہ مسلمانوں میں موجود انتشار کی کیفیت ختم ہو ۔اگر متحد ہوں گے تو ہمارا اپنا وجود اپنے آپ میں ایک قوت کی شکل میں ہوگا۔ جس کو ختم کرنا بہر حال ممکن نہیں ہوگا۔ اگر اس کے مقابل منتشر ہونگے تو سرے سے ہمارا وجود ہی بے معنی ہوگا۔ اب اس بات کا وقت نہیں ہے کہ ہم ایک دوسرے پر تنقید کریں، ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں،ایک دوسرے پر لعن طعن کریں ا س کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہمیں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے مانند بننا پڑیگا۔انہوں نے لوگوں کی توجہ ایک اہم نقطہ کی طرف مرکوز کراتے ہوئے کہا کہ دنیا میں شاید ہندوستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں اقلیت سے اکثریت ڈرتی اور خوف کھاتی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس ملک کی اکثریت کو بتائیں کہ ہم اُن کے حریف نہیں بلکہ ان کے خیر خواہ ہیں۔ ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ ہماری حیثیت اس ملک میں داعی اُمت کی ہے ہمیں اپنے اس حیثیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے،دشمن ہو یا دوست سب تک اللہ کا پیغام پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے ہیکہ نازک حالات میں انسان کو اللہ تعالیٰ سے رجو ع ہونا چاہئے اور یہ اہل ایمان کی پہچان ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم مادی تدابیر کے بارے میں تو خوب غور وفکر کرتے ہیں۔ لیکن اللہ کی طرف رجوع کرنے میں ہم سے غفلت ہورہی ہے۔