اترپردیش کی ریاستی حکومت کمزور طبقات کے حق میں نہیں: آل انڈیا ملی کونسل

03:29PM Tue 16 May, 2017

نئی دہلی (بھٹکلیس نیوز )اترپردیش کی یوگی حکومت میں نظم ونسق کی خراب ہوتی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل نے کہا کہ ایسا تب ہو رہا ہے جب یہ حکومت غنڈہ راج ختم کرنے اور ریاست میں نظم ونسق کو بحال کرنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے نام پر اقتدار میں آئی ہے۔ملی کونسل جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ یوپی حکومت کو اقتدار میں آئے تقریباً دو ماہ ہو رہے ہیں لیکن اس دوران سب سے خراب صورتحال ریاست میں لاء اینڈ آرڈر کی رہی ہے، جہاں ایک طرف ایک مخصوص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہیں کبھی بیف کے نام پر ستایا جا رہا ہے تو کبھی مساجد سے لاؤڈ اسپیکر اتارنے کی دھمکی دی جارہی ہے حتی کہ دیواروں پر کھلے عام چسپاں پوسٹروں کے ذریعہ وارننگ دی جارہی ہے کہ دسمبر 2017 تک مسلمان اس گاؤں کو خالی کر دیں، وہاں دوسری طرف چھوٹی ذاتوں کو بھی نشانہ پر لیا جا رہا ہے۔ بلندشہر، سنبھل اور سہارنپور وغیرہ میں اعلیٰ ذاتوں کے ذریعہ چھوٹی ذاتوں کے گھروں پر حملہ کیا گیا، مکانوں کو نذرآتش کیا گیا اور انہیں مارا پیٹا گیا، پولیس اس پورے معاملے میں جس طرح خاموش تماشائی رہی اس سے بہت سے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر عالم نے کہا کہ کہنے کو تو یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ ہندو یوا واہنی کے کارکنوں سے کہتے ہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں لیکن دیکھا جا رہا ہے کہ ان کی اس اپیل پر ان کارکنوں پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے، بلکہ واقعات یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ پہلے سے زیادہ دلیر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ ان کارکنوں کو آر ایس ایس کی پشت پناہی حاصل ہے کہ تم جو چاہو کرو، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے حالات سدھرنے کے بجارے مزید بگڑ رہے ہیں، کچھ ایسا ہی معاملہ پولیس کا ہے۔ پولیس کے ذریعہ لاء اینڈ آرڈر کو کنٹرول نہ کرپانے سے بھی یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ موجودہ یوگی حکومت سرکار چلانے کی اہل نہیں ہے اور نہ ہی وہ کمزور طبقات کے حق میں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ریاست کو فرقہ وارانہ اور طبقاتی جنون کی جانب ڈھکیلا جا رہا ہے۔