رہنمائے کتب : البدر المنیر فی تخریج الاحادیث و الاثار الواقعة فی الشرح الکبیر ۔۔۔ تحریر : عبد المتین منیری

08:00PM Fri 21 Jul, 2017

نام کتاب : البد ر المنیر فی تخریج الاحادیث و الآثار الواقعہ فی الشرح الکبیر تالیف :امام ابن الملقن ۔ عمر بن علی بن احمد الانصاری الشافعی ۔ ابو حفص (۷۲۳ھ ۔ ۸۰۴) تحقیق : مصطفی ابو الغیط عبد الحی ، ابی محمد عبد اللہ بن سلیمان ، ابی عمار یاسر بن کمال ناشر : دار الھجرۃ للنشر و التوزیع ۔ الریاض ۔ سعودی عرب پہلی اشاعت : ۲۰۰۴ء کتابوں کے اس تعارفی سلسلے کامقصد صرف نئی کتابوں پر تبصرہ نہیں ہے۔بلکہ اس کا اصل مقصد ہمارے مدارس دینیہ اور دارالعلوموں میں تعلیم پانے والے طلبہ کی رہنمائی اور دور حاضر میں جو علمی کام ہورہے ہیں ان سے متعارف کرانا ہے، تاکہ انہیں پتہ چلے کہ یہ دنیا بڑی وسیع ہے اور علم دین کی خدمت کسی ایک خطہ کی جاگیر نہیں ہے اور جو خطہ بھی اس کی قدر کرے گا ۔ اس کی جھولی میں خدا کی یہ نعمت آکر گر جائے گی،ہمیں گذشتہ دوصدیوں میں ہونے والی برصغیر کی خدمات پر صرف فخر کرکے بیٹھنا نہیں ہے ، بلکہ فخر کرنے کی جو بنیادیں تھی انہیں کمزور ہونے سے بچانا ہے اور یہ بتانا ہے کہ علم دین ابھی ختم نہیں ہوا ۔اس میدان میں ابھی تحقیق اور جستجو کام جاری و ساری ہے ، بس بے قدری کی وجہ سے علم و تحقیق کی جگہیں بد ل رہی ہے، جس کی وجہ سے ان میدانوں میں ہونے والی بہت سی کاوشوں سے ہم نابلد ہیں۔ گزشتہ قسط میں ہم نے امام ابن الملقنؒ کی وسیع و عریض شرح بخاری کا تذکرہ کیا تھا، لہذا امام موصوف کی شخصیت پر مکرر روشنی ڈالنے کے بجائے گذشتہ دنوں منظر عام پر آنے وا لے مزید ایک عظیم علمی کارنامے کی طرف لے چلتے ہیں۔یہ ہے آپ کی عظیم کتاب البدر المنیر ۔ اصول فقہ کے ماہرین نے کتاب اللہ ، سنت رسول اللہ ، اجماع ، قیاس کو شریعت اسلامی کا ماخذ قرار دیا ہے، بعض ائمہ کرام نے ان پر مزید استحسان ، مصلحت مرسلہ ،عرف ، استصحاب ،اسلام سے قبل کی آسمانی شریعتوں اور مسلک صحابہ کو بھی ماخذ کی حیثیت دی ہے، لیکن بنیادی طور پر شریعت کے دو ہی ماخذ ہیں ، کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ، باقی مآخذ اگر ان سے نہ ٹکرائیں تو ان سے استفادہ کیا جائے گا، قرآنی تعلیمات کی بھی تین قسمیں ہیں (۱) اعتقادی مسایٔل (۲)اخلاقی مسائل (۳) عملی مسائل ۔ آخر الذکر مسائل کا تعلق ایک مکلف (ذمہ دار ) شخص کی زبان سے جو بات نکلتی ہے ، اس سے جو افعال صادر ہوتے ہیں،اس کے معاہدوں اور قول وقرار سے متعلق ہیں ۔ انہیں قرآنی فقہ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلنے والی بات یا آپ کا عمل یا آپ کی جانب سے اس کی منظوری یا نامنظوری ہے۔ یہ بات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے آپ کے سامنے کسی کام کے کرنے اور آپ کے مشاہدے میں آنے پر آپ کی خاموشی یا انکار یا اظہار مسرت سے ثابت ہوتی ہے۔ امت کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی مسئلہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول ، عمل اور تقریر (منظور ی یا نامنظوری) میں سے جوبات بھی ثابت ہو، اس بات سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصدشریعت کی کوئی بات بتانا یا اس پر عمل کروانا ہو۔ فقہی احکام میں حلال حرام مکروہ کا دارومدار انہی احادیث پر ہے۔ یہ احادیث احکام کہلاتی ہیں۔ ہمارے ائمہ کرام اور فقہائے عظام نے جب اپنی کتابوں میں فقہی مسائل کو بیان کیا تو ان میں سے قدماء نے عموما اس بات کا خیال رکھا کہ جب بھی کوئی مسئلہ بیان ہو تو ساتھ ہی ساتھ اگر قرآنی آیات سے استنباط کیا ہو تو ان آیات کو اور اگر احادیث نبویہ سے استنباط کیا ہو تو احادیث کو بطور دلیل پیش کیا جائے،اس سلسلے میں فقہاء شافعیہ نے خصوصیت سے اہتمام کیا ۔جن فقہاء شافعیہ نے اس سلسلہ میں مسائل کے ساتھ دلائل کا اہتمام کیا ان میں ایک اہم نام امام ابو القاسم عبد الکریم بن محمد الرافعی القزوینی ؒ(ف ۶۲۳ھ!۱۲۲۶ء )کا ہے۔ آپ نے امام غزالی ؒکی مشہور کتاب الوجیز کی شرح فتح العزیز (۱۳۔جلدیں) میں خصوصیت سے اس کا اہتمام کیا ہے ۔ یہ کتاب فقہ شافعی کی اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ چونکہ کسی حدیث سے حلال و حرام وغیرہ احکامات کے استخراج کے لئے صرف حدیث کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونا کافی نہیں۔بلکہ اس کی صحت کا ثابت ہونا بھی ضروری ہے،لہذا علماء ومحدثین نے ان احادیث کی اصل جاننے اور صحت کے لحاظ سے ان احادیث کی جانچ پڑتال کا بیڑا اٹھایا، چونکہ فقہائے شوافع میں امام شافعیؒ کے بعد امام رافعیؒ اور امام نووی ؒکا مقام سب سے اونچا ہے، اور چونکہ ثانی الذکر کا شمار عظیم محدثین میں ہوتا ہے اور آپ نے اپنی کتابوں المجموع وغیرہ میں احادیث پر حکم لگانے کا اہتمام کیا ہے لہذا محدثین نے اول الذکر کی کتابوں کو اپنی محنت کا مرکز بنایا ، خاص طور پر ان کی عظیم کتاب العزیز شرح الوجیز کو۔انہوں نے اس میں مندرج احادیث کی اسناد کو جانچنے اور پرکھنے اور انہیں یکجا کرنے کی کوشش کی ، ان کوششوں میں ہمارے سامنے مندرجہ ذیل کتابوں کے نام آتے ہیں: ۱۔ تخریج الاحادیث الرافعی : شہا ب الدین ابی الحسین احمد بن ابیک بن عبد اللہ الحسامی الدمیاطی الحافظ (ت ۷۴۹ھ) ۲۔ تخریج احادیث الرافعی : محمد بن علی بن عبد الواحد بن یحیی بن عبد الرحیم الدکالی ، المصری الشافعی ابو امامہ ،معروف ابن النقاش ،خطیب جامع ابن طولون (۷۶۳ھ) ۳۔ تخریج احادیث الرافعی : القاضی ابی عمر عزالدین عبد العزیز بن محمد بن ابراہیم بن سعد اللہ بن جماعہ الکنانی الحموی ، الدمشقی ، المصری ، الشافعی (ت ۷۶۷ھ) ۴۔ تخریج احادیث الرافعی : بد رالدین محمد بن بھادر الزرکشی المنھاجی الشافعی (ت ۷۹۴ھ) ۵۔ شافی العی فی تخریج احادیث الرافعی : شھاب الدین ابی العباس احمد بن اسماعیل بن خلیفہ بن عبد العال الدمشقی الشافعی ، معروف ابن الحسائی (ت ۸۱۵ھ) ۶۔ نشر العبیر فی تخریج احادیث الشرح الکبیر : حافظ جلا ل الدین عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی (ت ۹۱۱ھ) لیکن جس کتا ب نے اس میدان میں سب سے زیادہ شہرت حاصل کی اور ایک انسائکلوپیڈیا کی حیثیت اختیار کی وہ ہے امام ابن الملقن ؒکی البد ر المنیر فی تخریج الاحادیث و الآثار الواقعہ فی الشرح الکبیر ، یہ کتاب چند سال قبل (۱۰) جلدوں میں ، جس کی ہرجلد اندازا(۷۵۰) اصفحات پر مشتمل ہے پہلی مرتبہ شائع ہوکر منظر عام پر آئی ہے۔یہ کتاب ضخامت میں اپنی اصل کتاب العزیز سے برابر یا کچھ بڑی ہے آخر الذکر کتاب (۵۵۰) صفحات کی (۱۳) جلدوں پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ بتایاگیا کہ یہ کتاب تخریج حدیث سے تعلق رکھتی ہے، اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہوتی ہے، اور جو سنت رسول نہیں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اس کی جھوٹی نسبت سے ان سنتوں کو بچایا جاسکتا ہے،اس کے ذریعہ احادیث کی صحت اور اس کے سقم کا پتہ چلتا ہے۔ چونکہ فقہی احکامات حلال و حرام جائز و ناجائز فرض و مندوب اورمکروہ کے اطلاق کا انحصار مکمل طور پر حدیث کی صحت پر منحصر ہے اور موضوع اور ضعیف احادیث کی بنیاد پر حلت و حرمت کا حکم لگانے پر دین میں تحریف کی راہ کھلتی ہے ، لہذا جن احادیث سے فقہی احکامات اخذ کئے گئے ہیں انکی تخریج کی اشد ضرورت علماء و محدثین نے محسوس کی ہے ۔ یوں تو اس موضو ع پر تمام فقہی مذاہب کے علماء نے کوشش کی ہے،لیکن دوسرے دینی علوم کی طرح اس میدان میں بھی علمائے شوافع کی جد وجہد سب سے زیادہ ہے، اس کا بولتا ثبوت یہ کتاب ہے جو اس موضوع پر سب سے بڑی کتاب سمجھی جاتی ہے، واضح رہے کہ اس کتاب میں جن احادیث کی اصل جاننے کی کوشش کی گئی ہے یہ صرف فقہ شافعی کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں ، بلکہ اس میں ان احادیث سے بھی بحث کی گئی ہے جن سے ائمہ اربعہ کے ماننے والوں اور دیگر فقہی مذاہب کے فقہاء اور علماء نے استنباط کیا ہے۔ امام ابن ملقن نے طلبہ کی سہولت کے لئے اس کتاب کا ایک خلاصہ بھی خلاصۃ البد ر المنیر کے عنوان سے ترتیب دیا تھا ، لیکن اس کتاب کا اہم ترین خلاصہ امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب تلخیص الحبیر ہے جس میں حافظ رحمۃ اللہ نے امام رافعی رحمۃ اللہ کی کتاب کے دوسرے مخرجین قاضی عز الدین بن جماعہ ، امام ابو امامہ النقاش ، علامہ سراج الدین عمر بن علی الانصاری ، علامہ بدر الدین زرکشی کی کتابوں اور احناف میں سے امام زیلعی کی کتاب کا نچوڑ پیش کردیا ہے۔حافظ ابن حجر ؒ چونکہ خاتمۃ المحدثین ہیں لہذااحادیث پر ان کے حکم نے سونے پر سہاگے کا کام دیا ہے۔ فقہی مسائل میں دلیل کی اتباع تفقہ کی اصل سیڑھی ہے، جن کتابوں میں احادیث احکام کی تخریج کی گئی ہو ، ان سے مسلسل استفادہ منصب نبوت کے حاملین کی لئے از حد ضروری ہے، ایک ایسے دور میں جب کہ فتن بڑھ رہے، جاہل علماء کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، ائمہ کرام کی جد وجہد سے ناواقفیت کی بنا پر اکابرین امت سے بھروسہ و اعتماد اٹھانے کی مسلسل سازشتیں ہورہی ہیں، البدر المنیر جیسی کتابوں کا ظہور نعمت غیرمترقبہ سے کم نہیں ہے۔ طلبہ علوم نبوت کو ان کتابوں کو حرزجان بنانا چاہئے۔ کتاب تحقیق اور فہرست سازی کے اعلی معیارات پر پوری اترتی ہے۔

"یہ کالم ارمغان جامعہ ۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں طلبہ مدارس کی رہنمائی کے لئے لکھا گیا تھا "

ammuniri@gmail.com

https://telegram.me/muniri