قومی ہیرو ٹیپو سلطان شہید ؒ سچی دیش بھکتی کا اعلیٰ نمونہ : ٹیپو سلطان یونائٹیڈ فرنٹ

03:41PM Thu 4 May, 2017

بنگلور:(بھٹکلیس نیوز)پریس ریلیز: 4؍ مئی کو ہندوستان بھر میں ٹیپو سلطان کے بنام یوم دیش پریم یا دیش بھکتی دِوس منانا چاہئے۔ مشہور تاریخ داں آہندہ کے پروفیسر این وی نرسمہیا شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کی 218 ویں یوم شہادت تقریب جو کہ شہر کے ٹیپو سلطان سمر پیالیس میں آج صبح نو بجے منائی گئی۔ جلسے کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ تصویر سلطانی پر گلہائے عقیدت نچھاور کئے گئے۔ صحافتی عملے کے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ہندوستان ہندوستانیوں کیلئے ہے کا نعرہ سب سے پہلے سلطان کا دیا ہوا ہے۔ نرسمہیا نے کہا کہ ٹیپو سلطان کی وطن دوستی سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ نوجوان سچی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کی بناوٹی جھوٹی کردارکشی کرنے والے تہمات پر کان دھرنے پر اصراف ہیں۔ یہی وہ شعلہ انگیز افواہیں ہیں جن سے بھٹک کر ہر شہری دیش غدار کی صف میں آکھڑا ہورہا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ قوم و ملک کی بقا کے لئے ٹیپو سلطان نے اپنی سلطنت اور اپنا گھر تو گھر اپنے دو جگر کے ٹکڑوں کو بھی برطانوی سامراجیت کے پاس رہن رکھا۔ کون نہیں جانتا کہ میدانِ کارزار میں بطور سپاہی لڑتے ہوئے سلطان نے جام شہادت نوش فرمایا۔ سب جانتے ہیں کہ اٹھارویں صدی سے پہلے ہی ریاست میسور کی زبوں حالی کو خوشحالی میں تبدیل کرنے والے نواب حیدر علی خان بہادر تھے۔ انہوں نے راج گدی میسور کے یدوونش کا تحفظ کیا، کنڑا تہذیب و ثقافت کو سرکاری سطح پر پروان چڑھایا۔ آگے چل کر باپ کے نقش قدم پر چلنے والے ٹیپو سلطان نے بھی بین المذاہب رواداری ، یکجہتی کی علمبرداری کے ساتھ کثرت میں وحدت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا۔ ریاست کرناٹک آج بھی انہیں کی مرہون منت باہمی بھائی چارہ مندر و مسجد جیسی گنگا جمنی تہذیب کا منہ بولتا گہوارا ہے۔ سارے جنوبی ہند کا حکمران بنائے جانے والی برطانوی پیش کش کو ٹھکرا کر ہندوستانی چھوٹی بڑی ریاستوں کے بکھرے ہوئے اختلافات خواہ راجے نواب ، سامنت، پالیگار، سبہوں کی شیرازاہ بندی کرنے میں غیر نفس کو سلطان نے اپنی خودد اریت کو پائیمال ہونے نہ دیا۔ اگر نظام دکن اور مرہٹوں اور دیگر دیسی ریاستوں کی طرح سلطان انگریزوں سے ساز باز کرتے یا ہاتھ ملالیتے تو آج ہندوستان کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔ ٹف کے ریاستی صدرسردار احمد قریشی نے شہید ؒ کو قومی ہیرو قرار دیتے ہوئے کہا کہ دورِ پرآشوب کا ہر گھر ایک ٹیپو سلطان کی کمی کو محسوس کررہا ہے۔ گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن والی زندگی سلطان کا دیا ہوا کردار تمام اقلیتوں کا آج مقدر بن چکا ہے۔ کچھ کرنے یا مرنے کے اس میدان کارزار میں شہادت کے شرف صرف نمونہ سلطان ہی سے حاصل ہوسکتا ہے۔ سلطان کے تئیں یہی سچی خراج عقیدت ہے۔ فرقہ پرست بہگوا بجرنگی برگیڈ والے راشٹر پریم کا جتنا ہی جھوٹا دم بھرلیں بقائے ملک و ملت کی خاطر یہ اپنا سر تو سر انگلی بھی نہیں کٹائیں گے۔ انہیں تو معصوم اور بے گناہوں کا خون بہانے میں سلطان جیسے دیش کے سچے سپوتوں کی کردار کشی کرنے میں مزہ آتا ہے۔ دراصل سلطان کا وفادار ہی دیش وفادار اور غدار سلطان ہی اصل میں دیش کا غدار ہے۔ یہی یوم شہادت پر راشٹر کے نام یونائٹیڈ فرنٹ کا پیغام ہے۔ اس موقع پر ٹف کے نائب صدر اے اللہ بخش، کے یس یس ڈی مہیلا مورچہ کی صدر شریمتی کملما، سوامی وویکانندا چیتنیا بلگا کے صدر سی کے روی چندرا، جنتا دل یوتھ لیڈر ناگراج، ٹف کورمنگلا شاخ کے ریاض خان، ٹف ناگوار سٹی صدر اکبر پاشاہ، بابو بھائی، ٹف کے چیف پیٹرن جناب بشیر بھائی، دلت مہیلا لیڈر سروجما، لگیری دستگیر ، روی اور ٹف کے جنرل سکریٹری داؤد اقبال بھی موجود تھے۔