عظیم مجاہدِ آزادی کیپٹن عباس علی کے یومِ وفات پر ایم سی سی آئی کے زیرِ اہتمام جلسہ کا انعقاد
06:01AM Wed 12 Oct, 2016
ملک کی ہر مرکزی اور صوبائی یونیورسٹی میں کیپٹن عباس علی چیئر قائم کی جائے : ڈاکٹر جسیم محمد
علی گڑھ11؍اکتوبر: ملک کے ممتاز مجاہدِ آزادی اور نیتا جی سبھاش چندر بوس کی انڈین نیشنل آرمی( آئی این اے) کے عظیم مجاہد کیپٹن عباس علی کے دوسرے یومِ وفات پر مسلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایم سی سی آئی) کے زیرِ اہتمام مزمل منزل کامپلیکس میں واقع میڈیا سینٹر ، علی گڑھ پر ایک جلسہ کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ممتاز ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور معززین نے کیپٹن عباس علی کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے ایم سی سی آئی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ کیپٹن عباس علی عزم، حوصلہ اور حب الوطنی کی زندہ مثال تھے۔ انہوں نے ہر قسم کے حالات میں آزادی کی جدو جہد کو جاری رکھا اور کبھی انگریزوں کے سامنے جھکنا یا اپنے عزائم کے نام پر سمجھوتا کرنا منظور نہیں کیا۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ کیپٹن عباس علی ایک ایسے سچے اور بہادر وطن پرست تھے جن پر آج بھی ملک کا بچہ بچہ ناز کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کی تاریخ میں کیپٹن عباس علی کا نام سنہرے حروف میں درج ہے۔ وہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کے وفادار ساتھی تھے اور انہوں نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت کے تعلق سے حقائق کو عوامی سطح پر جاری کئے جانے کی مہم چھیڑ رکھی تھی جس کے لئے مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ محترمہ ممتا بنرجی نے انہیں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن کیپٹن صاحب کی زندگی نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور وہ اس کام کو ادھورا چھوڑ کر اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔
ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ کیپٹن عباس علی جیسے لوگ موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے ترغیب کا باعث ہوتے ہیں اور ان شرپسندوں کا بھرپور جواب جو مسلمانوں کی حب الوطنی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن صاحب جیسی شخصیات روز روز نہیں پیدا ہوتیں وہ ہندوستان کی عظیم مشترکہ تہذیب و ثقافت کے علمبردار اور حب الوطنی کی جیتی جاگتی مورت تھے۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے مرکزی حکومت اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ ملک کی ہر مرکزی اورصوبائی یونیورسٹی میں ہندوستان کے اس عظیم سپوت نیتاجی سبھاش چندر بوس کے عظیم ساتھی کیپٹن عباس علی کی یاد میں کیپٹن عباس علی چیئر قائم کی جائے تاکہ نوجوان نسلیں ان کی خدمات سے واقف ہوکر ان سے ترغیب حاصل کریں۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس امر پر فخر کرتی ہے کہ اس کے فرزندان نے حب الوطنی کی لازوال مثال قائم کی ہے اور کیپٹن عباس علی بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایسے ہی عظیم فرزند تھے جن پر ملک ناز کرتا ہے۔
اس موقع پر اویس جمال شمسی، نصرت جمال انصاری، ڈاکٹر شیریں مسرور، ڈاکٹر جی ایف صابری، اقبال سیفی، عمار خاں، دلشاد قریشی، محمود انصاری کے علاوہ بڑی تعداد میں اساتذہ، دانشور اور معززین موجود تھے۔ آخر میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے کیپٹن عباس علی کو خراجِ عقیدت پیش کئے جانے کے ساتھ ان کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی۔