ایودھیا معاملہ: سپریم کورٹ نے ثالثی کو لے کر محفوظ رکھا فیصلہ، سبھی فریقوں سے مانگے نام

03:32PM Wed 6 Mar, 2019

سپریم کورٹ میں آج جب اجودھیا تنازع کا مقدمہ زیربحث آیا تو عدالت نے ایک بار پھر فریقین کو مشورہ دیا کہ وہ مصالحت کے ذریعہ معاملہ کو حل کرنے کی کوشش کریں ۔ تاہم ثالثی کو لے کر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بینچ نے سبھی فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد ثالثی کے لئے نام بتانے کیلئے کہا ہے۔ ادھر اپنے ردعمل کااظہارکرتے ہوئے مولانا سیدارشدمدنی نے کہا کہ اگر کوئی تنازعہ یامسئلہ آپسی بات چیت اورباہمی صلح سے حل ہوجائے تو اس سے بہتر کچھ ہوہی نہیں سکتا۔ بابری مسجد ملکیت کے تنازعہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کئے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے پس منظرمیں انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کی ابتداہی سے یہ کوشش رہی ہے کہ یہ تنازعہ آپسی مفاہمت سے حل ہو جائے ۔ اس کے لئے ماضی میں متعدد میٹنگیں ہوچکی ہیں ، مگر بات آگے نہیں بڑھ سکی۔
 مولانا مدنی نے مزید کہا کہ چونکہ عدالت اپنی نگرانی میں مصالحت کرانے کہ حق میں ہے ، اس لئے عدالت کا احترام کرتے ہوئے ہم بات چیت اور صلح کے لئے تیارہیں ، لیکن یہ بات چیت اعتقادکی بنیادپر نہیں ملکیت کے سوال پر ہونی چاہئے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے ایک سابقہ تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ابتداہی میں واضح کرچکی ہے کہ یہ اعتقادکا نہیں بلکہ ملکیت کامعاملہ ہے ۔