دین اسلام کو خود پر اور اپنے گھر پر نافذکیاجائے
04:07PM Tue 22 Aug, 2017
بیدر۔22؍اگست ۔ (پی این این ) حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کام کاآغاز اپنے رشتہ داروں کو دعوت دے کر کیاتھا لیکن ہماری یہ کوشش ایک اجتماع تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ دین کب قائم ہوکوئی نہیں جانتا اور نہ ہم دین کو قائم کرنے کے مکلف ہیں البتہ مجھے اپنی ذات اور میرے گھر پر پورااختیا رہے کہ میں دین کو خود پر اور اپنے گھر کے اندر قائم کروں۔ ہمارے قول وعمل میں تضاد نہ ہواگر ہم مسلمان ہیں تو مسلمان نظر بھی آناچاہیے۔ یہ باتیں جناب ایم بی بشیر احمد سکریڑی جماعت اسلامی ہند کرناٹک نے کہیں۔ وہ کل بعنوان ’’دین کو قائم کرو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘ منعقدہ اجتماع سے اختتامی خطاب کررہے تھے۔ رائل فنکشن ہال بید رمیں جماعت اسلامی ہند بیدر کے ضلعی وابستگان جماعت کے رشتہ داروں سے متعلق ایک روزہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی ایک اور تقریر بعنوان ’’جماعت اسلامی ہند کا قیام وپس منظر‘‘ میں کہاکہ 26؍اگست 1941 ء کو جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آیا ۔ آزادی کے ساتھ ملک تقسیم ہوا اور مختلف جماعتوں کی طرح جماعت اسلامی بھی تقسیم ہوئی اور جماعت اسلامی ہند کے نام سے 1948 ء سے ہندوستان میں کام شروع کیاگیاجس کے پہلے امیرجماعت مولانا ابواللیث اصلاحی ندوی منتخب ہوئے۔ ملیحّ آباد میں اس کاپہلامرکز قائم ہوا۔ اس کے بعد رامپور کو جماعت اسلامی ہند کامرکز بنایاگیا۔ وہاں سے یہ مرکز نئی دہلی منتقل ہوا۔آج بھی مرکز وہیں پرہے۔ 1956 ء کو جماعت اسلامی ہند کادستور مرتب اورنافذ ہوا۔ اس ایک روزہ اجتماع کا آغاز جناب محمدثناء اللہ صدیقی کے درس قرآن سے ہوا۔ جناب محمدظفراللہ خان معاون امیرمقامی شہر بیدر نے افتتاحی خطاب میں اجتماع کے مقصد کو واضح کیا۔ جناب محمدمعظم نے ’’انبیاء کی بعثت کا مقصد‘‘ کے عنوان پر بتایاکہ اللہ تعالیٰ نے قوموں کو تباہی سے بچانے کے لئے خیرخواہ اور بہی خواہ بناکر انبیائے کرا م کو دنیا کے ہر قطعہ میں مبعوث فرمایا۔ 24X7انبیائے کرام نے اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ موصوف نے قوموں کی تباہی کاذکر کرتے ہوئے ان کی کمزوریوں کواجاگر کیااور بتایاکہ ناپ تول میں کمی ، کمزورقوموں پر مظالم ، بدکاری کاعام ہونا وغیرہ وغیرہ ایسے اعمال ہیں جن کے سبب قومیں تباہ ہوئیں ۔ جناب محمدذاکر حسین چانگلیر (ہمناآباد) نے ’’اقامت دین اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ داعی دین محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اپنے سامنے رکھ کر اقامت دین کاکام انجام دے گا۔ اس کا دل دنیا کی لالچ سے یکسر پاک ہوناچاہیے۔ اقامت دین کی راہ میں معاشرہ آپ کا مقاطعہ کرسکتاہے ، ہجرت بھی کرنی پڑسکتی ہے۔ ہر حال میں اقامت دین کافریضہ انجام دے کر ایک اسلامی ریاست کاقیام عمل میں لانا ہوگا ۔ یہ کام تم نہیں کروگے تو اللہ کسی دوسرے سے یہ کام لے گا۔ ’’ملک کے حالات اور ہماری ذمہ داریاں ‘‘ عنوان پر جناب محمدآصف الدین (بیدر) نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ زمین اور یہ ملک اللہ کی امانت ہے ۔ اس امانت کے بارے میں اللہ کل قیامت میں سوال کرے گا کہ تم نے اس زمین سے متعلق اپنی ذمہ داری کس حدتک ادا کی ؟۔ ملک کے حالات سے واقف ہوکر اپنا داعیانہ فریضہ اداکر نا ہی درست فیصلہ ہے۔ اگر ہم نیکی کی تلقین اور برائی سے نہ روکیں گے تو یادرکھئیے ہم سب کو اللہ کے عذاب کا شکار ہونا پڑے گا۔ ہم توحیدرسالت اور آخرت کے علمبردار ہیں ۔بلالحاظ مذہب وملت سارے انسانوں کو اللہ کے غضب سے بچانا ہوگا۔ انفرادی اور اجتماعی ادارے خداترسی سے دور ، اور آخرت بیزاری کاشکار ہیں۔ لوگوں کو مختلف خانوں میں بانٹنے کاعمل تیز تر ہوچکاہے۔ کسی کو قوت سے اٹھایا جارہاہے اور کسی کو اسی قوت سے دبایا جارہاہے۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مادہ پرستی سے نکل کر خداپرستی کی طرف آئیں اور دوسروں کو لے آئیں۔ دباؤ کی نفسیات سے ہمیں باہر آناہوگا۔ دوپہر کے سیشن میں ’’تحریک اسلامی سے وابستگی کیوں‘‘عنوان پر پینل ڈسکشن ہوا۔ جناب رفیق احمد ناظم علاقہ ریاپورٹر رہے جبکہ اس مباحثہ میں محمداکرم علی ناظم ضلع ، محمد معظم (بیدر)، محمدآصف الدین ، ذاکرحسین چانگلیر(ہمناآباد)، سید جمیل احمد ہاشمی بیدرکے علاوہ محترمہ صبیحہ خانم ناظمہ حلقہ خواتین بیدر نے پردہ کی دوسری جانب سے حصہ لیا۔دوسرے سیشن کے کنوینر محمداقبال غازی بگدل رہے۔ اوپن سیشن میں شرکاء نے مختلف سوالا ت کئے جس کے تسلی بخش جوابات ناظم علاقہ اور سکریڑی حلقہ ایم پی بشیر احمد نے دئے۔ بسواکلیان، ہمناآباد، کمٹھانہ ،چانگلیر، اوراد، بیدر،بھالکی ، بگدل ، اور دیگر مقامات سے وابستگان جماعت اپنے رشتہ داروں کے ساتھ شریک اجتماع رہے۔ خواتین کی کثیر تعداد بھی اس اجتماع میں شریک رہی۔