بیدر میں’’میانمار (برما) کی صورتحال اور اس کاحل ‘‘عنوان پرمذاکرہ اور شعری نشست کایاران ادب نے کیا اہتمام
04:31PM Wed 13 Sep, 2017
بیدر۔؍ستمبر (بھٹکلیس نیوز) تبت کے شہری کئی سال سے ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ جتنے سوئٹر فروخت کرتے ہیں وہ تبتی ہی ہوتے ہیں۔ اسی طرح نیپال میں زلزلہ آتاہے تو بہت سارے نیپالی ہندوستان کارخ کرتے ہیں اور یہاں آباد ہوجاتے ہیں۔ جب تبتی اور نیپالیوں کو بھارت میں رہنے کا موقع دیاجاتاہے تو برما کے مسلمانوں کو کیوں نہیں ؟کیا وہ انسان نہیں ہیں؟۔ میانمار کے مسلمانوں کے ہندوستان آنے سے بھارت کو خطرے کی بات بے بنیاد ہے۔ اِن کی مدد کرناچاہیے۔ بلکہ ہر انسان کو انسانیت ، بھائی چارہ اور مظلوموں کی مددپر یقین رکھتاہے وہ آگے آئے۔ یہ بات جناب عظیم بادشاہ بھالکی نے کہی۔ وہ پیر کی شب یاران ادب بیدر کے دفتر میں ’’میانمار (برما) کی صورتحال اور اس کاحل ‘‘ عنوان پر منعقدہ مذاکرہ میں خطاب کررہے تھے۔ مذاکرہ کے اعزازی مہمان فتح امان کاکہناتھاکہ ہمیں اس زیادتی کے خلاف آواز بلندکرنی چاہیے ورنہ جو برما میں ہورہاہے وہی ہندوستان میں ہمارے ساتھ ہوسکتاہے۔ علم، ادب، طاقت ، رقم اور میڈیا کے علاوہ سوشیل میڈیاکے ذریعہ آگے بڑھیں اور ان مظلوموں کی مدد کریں۔ محمدسید غوث اشرفی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے اشعار پیش کرتے ہوئے اپنی بات مؤثر انداز میں رکھی اور بتایاکہ ہم مل جل کر حالات کا مقابلہ کریں۔ نبی کریم ؐ نے ایسے حالات کی پیشین گوئی کردی تھی۔ ان حالات سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جناب امیرالدین امیرنے بتایاکہ روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینا ہمارافرض ہے ۔ لیکن مجھے تکلیف اس بات پر ہے کہ ہم میں انتشار ہے۔ اگر ہم متحد ہوجائیں تو دینا کی کوئی طاقت ہم پر ظلم نہیں ڈھاسکتی۔ مسلکوں کی بات نہ کریں ، کسی کا کلمہ گورہنا ہی کافی ہے۔ جناب سخاوت علی سخاوت ؔ نے انتہائی اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ہمارے وزیر اعظم نریندرمودی جی نے برما کادورہ کیا لیکن میانمار میں ہورہے ظلم کے خلاف کچھ نہ کہا۔ ہمارے وزیر اعظم کو چاہیے تھاکہ وہ اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر ایک آدھ جملہ وہاں کے ظلم وستم سے متعلق کہہ دیتے جس سے UNOکو بھی تسلی ہوجاتی اور وہ چوکنا ہوجاتا۔ لیکن افسوس کہ اسرائیلی پالیسی نے بھارت کو کہیں کانہ رکھا۔ منورعلی شاہد کاکہناتھاکہ ہمارے لئے میانمار کی صورتحال ناقابل برداشت ہے۔ مسلمانوں کو ایک ہونے کی ضرورت ہے۔ آغاز ہی سے مسلمانوں نے دین کی حفاظت کی ہے ۔ آج بھی ہم ایک آواز پر تیار ہیں۔ طالب علم محمدحسین نے مختصراً کہاکہ اس معاملہ کو ہلکانہ لیں۔ باتوں کے بجائے کام کے لئے قدم آگے بڑھائیں۔ دوسری نشست شعری محفل پرمشتمل تھی جس کا آغاز منورعلی شاہد کی نعت شریف سے ہوا۔ جس کی صدارت محترمہ ریحانہ بیگم ریحانہ ؔ نے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے معروف شاعر باسط خان صوفیؔ شریک رہے۔ یہ شعری محفل میانمار کی صورتحال پر ہی رکھی گئی تھی جس میں میانمار کے شہیدوں کو خراج اور وہاں کی صورتحال کو شعرکے پیرائے میں بیان کرناتھا۔ نوجوان شاعر فتح امان نے متاثر کن طریقے سے پیش کیا۔ عظیم بادشاہ ، منورعلی شاہد ، محمدسید اشرف اشرفی ، سخاوت علی سخاوتؔ کے علاوہ مزاحیہ شاعر حامد سلیم نے بھی سنجیدہ کلام پیش کیا۔ محمدامیرالدین امیرؔ ، میرؔ بیدری ، باسط خان صوفی اور ریحانہ بیگم ریحانہ ؔ نے اپنااپناکلام پیش کرکے خوب داد حاصل کی ۔ریحانہ بیگم ریحانہ نے اپنی نثری نظم کے ذریعہ کافی متاثر کیا۔ اور اپنی صدارتی تقریر میں بتایاکہ میانمار کی صورتحال انسانی المیہ ہے جس کی میں بھرپور مذمت کرتی ہوں اور مجھ سے جو کچھ مدد ممکن ہے اس کے لئے میں تیار ہوں ۔محمدامیرالدین امیرؔ کے شکریہ پر پروگرام اختتام کو پہنچا۔