بھٹکل میں اگلے چند دنوں میں مساجد، منادر اور چرچوں کو دی جائے گی مزید ڈھیل؛ اے ایس پی نکھل

01:30PM Mon 8 Jun, 2020

بھٹکل: 8 جون،20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) بھٹکل میں کل سے مسجدیں چالیس فیصد کی حد تک نمازیوں کے لیے کھول دی جارہی ہیں لیکن بھٹکل میں اب تک صبح سات بجے سے شام سات کے دوران چھوٹ دیے جانے کی وجہ سے مسجدیں بھی اسی قانون کے تحت ان اوقات کے درمیان میں آنے والی نمازوں میں ہی چالیس فیصد نمازیوں کے لیے کھلیں گی۔ جبکہ ان اوقات سے پہلے یا بعد میں آنے والی نمازوں میں صرف دو یا تین نمازی ہی شریک ہوسکیں گے جیسا کہ اس سے پہلے ہوتا آرہا ہے۔ ان باتوں کی جانکاری آج بھٹکل اربن بینک کے ہال میں تمام مذاہب کے ذمہ داران کے ساتھ بات کرتے ہوئے اسسٹنٹ ایس پی مسٹر نکھل بلاور نے دی۔ انہوں نے کہا کہ یہی قانون مندر اور چرچ کے لیے بھی لاگو ہوگا اور آئندہ چند دنوں میں یہ پابندی ہٹ جائے گی جس کے بعد پانچوں وقت کی نمازیں مسجد میں ادا کرنا ممکن ہوگا۔ اے ایس پی نے حکومت کی طرف سے جاری تمام ہدایتوں پر سختی کے ساتھ عمل کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد تمام لوگوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ اس لیے تمام افراد کا ہدایات کو ماننا لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجدوں میں لوگ دن میں پانچ مرتبہ جاتے ہیں اس لیے مسجد کے ذمہ داران کو آئندہ اس سلسلہ میں محتاط رہنا ضروری ہوگا۔ انہوں نے اس موقع پر دہلی اور دیگر جگہوں کی مساجد کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں آج بہت سی جگہوں پر مسجدیں کھولی گئی ہیں جہاں تمام قوانین کی پابندی کی جارہی ہے۔ اے ایس پی نکھل نے آگے کہا کہ اگر مسجد، مندر یا چرچ میں سے کہیں بھی قانون کی خلاف ورزی پائی گئی تو اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ اے ایس پی نے ایک پجاری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صبح سات بجے سے پہلے مندر میں بھی کوئی کارروائی نہیں ہوگی ، انہوں نے مندر انتطامیہ سے بھی اس سلسلہ میں تعاون کرنے اور دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی۔ اس وقت مجلس اصلاح وتنظیم کے ذمہ داران نے پانچ وقت کی نماز کے لیے اجازت طلب کرنی چاہی لیکن اے ایس پی نے حالات کو دیکھتے ہوئے اس کی اجازت نہیں دی۔ اس نشست میں اسسٹنٹ کمشنر بھرت ایس، ڈی ایس پی گوتم، تحصلدار روی چندرا بھی موجود تھے۔