جامعہ اردوعلی گڑھ کی77ویں یومِ تنصیب تقریب

01:05PM Sat 16 Apr, 2016

بھٹکلیس نیوز؍17 اپریل،2016 علی گڑھ (راست)جامعہ اردو علی گڑھ نے ملک اور اردو زبان کی جو خدمت انجام دی ہے اس کی مثال علمی دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ان خیالات کا اظہار جامعہ اردو علی گڑھ کی مشاورتی کونسل کے چیئرمین پروفیسر رضأ اللہ خاں نے کیا۔ وہ آج جامعہ اردو علی گڑھ کیمپس میں جامعہ اردو علی گڑھ کی 77ویں یومِ تنصیب تقریب سے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ1939سے مسلسل سماج کے محروم طبقات کو اردو میڈیم سے تعلیم کی سہولیات مہیا کرا رہی ہے جس سے سماج کے محروم اور پسماندہ طبقات ملک کے قومی دھارے سے جڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی خواندگی کی شرح میں اضافہ کرنا اس ملک کی سب سے بڑی خدمت ہے کیونکہ تعلیم ہی ترقی کی اولین سیڑھی ہے اور یہ کارِ خیر جامعہ اردو علی گڑھ گزشتہ75سال سے بخوبی انجام دے رہی ہے۔ اپنے صدارتی خطبہ میں جامعہ اردو علی گڑھ کے او ایس ڈی مسٹر فرحت علی خاں نے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ کے75سالہ علمی سفر میں متعدد سیاسی رہنما،کئی سابق وزرائے اعظم، سابق صدر جمہوریۂ ہند، متعدد وزرأ اور کئی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ جامعہ اردو علی گڑھ سے کسی نہ کسی طرح وابستہ رہے مگر افسوس کہ پھر بھی آج تک جامعہ اردو علی گڑھ اپنے استحکام سے محروم ہے اور آج تک کسی بھی حکومت نے اس ادارہ کی جانب چشمِ توجہ مبذول نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ مسلسل ترقی کی شاہ راہ پر گامزن ہے اور وہ دن دور نہیں جب اسے مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے استحکام حاصل ہوگا۔ فرحت علی خاں نے کہا کہ آج جامعہ اردو علی گڑھ کوملک کے کسی بھی تعلیمی ادارے کے مقابلہ پیش کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ اردو نے کئی ایسے کورسیز شروع کئے ہیں جو اردو طبقہ کی خود کفالت میں معاون ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دورِ حاضر کے تقاضوں کے پیشِ نظر اردو صحافت کا پیشہ ورانہ دو سالہ ڈپلومہ کورس شروع کیاگیا ہے جو اردو طبقہ کو صحافت کے میدان میں روزگار دلانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ مزید دیگر کورسیز زیرِ غور ہیں۔ جامعہ اردو علی گڑھ کے راجسٹرار شمعون رضا نقوی نے کہا کہ سبھی سیاسی جماعتیں اردو کے فروغ کی بات کرتی ہیں مگر افسوس کہ اقتدار حاصل ہوتے ہی وہ اسی زبان کو فراموش کر بیٹھتی ہیں جس نے ملک کو آزادی دلاکر انہیں اقتدار کرنے کے قابل بنایا۔ مسٹر خان نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اردو کو مسلمانوں کی زبان قرار دے کر اس کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کیاگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اردو کے ساتھ نا انصافی ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور اب جوسیاسی جماعت اپنے منشور میں اردو کے فروغ اور جامعہ اردو علی گڑھ کو سرکاری سطح پر استحکام عطا کرنے کا وعدہ کرے گی مسلمان اسی کے تعلق سے غور کرے گا۔ جامعہ اردو علی گڑھ کے ڈائرکٹر ڈاکٹرجسیم محمد نے کہا کہ ملک کی مرکزی و صوبائی حکومتوں نے نہ تو اردو زبان کے ساتھ انصاف کیا اور نہ ہی جامعہ اردوعلی گڑھ کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ ملک کا پہلا فاصلاتی تعلیمی ادارہ ہے اور نہ صرف ملک بھر میں اس کے مراکز قائم ہیں بلکہ دیگر ممالک میں بھی اس ادارے کے مراکز اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم رول ادا کرکے ہندوستان کا نام روشن کر رہے ہیں اور اپنے ملک کو تعلیم کا مرکز ثابت کرنے میں مصروف ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جامعہ اردو علی گڑھ کی اسناد کوسرکاری سطح پر تسلیم کرکے مساویت عطا کی جائے اور اس ادارہ سے اسناد حاصل کرنے والے طلبأ و طالبات کوملک میں اعلیٰ تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں ترجیح دی جائے تاکہ ملک کے �آئین کے مطابق اردو زبان کو اس کا وہ جائز حق مل سکے جس کی وہ مستحق ہے ۔ ڈاکٹرجسیم محمد نے کہا کہ ملک کو غلامی سے نجات دلانے میں اردو زبان نے جو رول ادا کیا وہ ہمارے ملک کی تاریخ کا روشن باب ہے اور سیاست دانوں کو چاہئے کہ وہ تعصب کی عینک اتار کرہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ ڈاکٹرجسیم محمد نے کہا کہ اردو کے ساتھ نا انصافی کرنا ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے جس کے لئے مرکزی و صوبائی حکومتوں کے ذمہ داران سے باز پرس کی جانی چاہئے۔ جامعہ اردو علی گڑھ کے کنٹرولر برائے امتحانات مسٹر رضوان علی خاں نے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ ملک کی آزادی کی جدو جہد کی تاریخ ہے کیونکہ آزادی کی جدو جہد میں جامعہ اردو علی گڑھ اورا س سے وابستہ افراد نے جو قربانیاں پیش کی ہیں وہ ناقابلِ فراموش ہیں اور ان کا اعتراف ملک کے باوقار سیاست داں متعدد مواقع پر کر چکے ہیں۔ڈپٹی کنٹرولر عبدالقدیر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے جب حکومتِ ہند کو جامعہ اردو کی جانب توجہ مبذول کرکے اسے اوپن یونیورسٹی کا درجہ دیا جانا چاہئے۔ پروگرام کے آخر میں اتفاقِ رائے سے ایک تجویز پاس کرکے مطالبہ کیاگیا کہ مرکزی حکومت پارلیامنٹ میں بل لاکر جامعہ اردو علی گڑھ کو اوپن یونیورسٹی کا درجہ دے تاکہ اردو زبان کے ساتھ انصاف ہوسکے اور اسے آئینی درجہ حاصل ہو۔ پروگرام میں بڑی تعداد میں اساتذہ ،دانشوران اور معززین کے علاوہ خصوصی طور پر عبدالماجد، مصاعدقدوائی، خورشید احمد، ناصر، نثار، عبدالمنان، اقبال جاوید، عاقل جعفری، سید شکیل احمد اور فرید خاں،محمود انصاری ، اقبال سیفی وغیرہ بھی موجود تھے۔