انتخابات کے قریب مودی کو کسانوں کی یاد آئی ہے۔ کمار سوامی چن پٹن میں765؍ کروڑ کے مختلف منصوبوں کیلئے سنگ بنیاد
03:29PM Mon 25 Feb, 2019
چن پٹن۔ 25؍ فروری (سالار نیوز) وزیر اعظم نریندر مودی کو عین انتخابات کے موقع پر کسانوں کی یاد آتی ہے اور عوام کی طرف سے انہیں ٹھکرادئے جانے کے خوف سے کسانوں کو 6؍ ہزار روپئے دینے کے منصوبے کو شروع کیا ہے ،یہ صرف انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کی سازش ہے۔یہ بات وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے کہی۔انہو ں نے یہاں چن پٹن میں تقریباً 765؍ کروڑ روپئے کی لاگت کے مختلف ترقیات وتعمیری کاموں کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کو اب کسانوں کی یاد آئی ہے۔ ملک کے 12؍ کروڑ کسانوں کو سالانہ فی کس 6000؍ ہزار روپئے دینے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔انتخابات کے قریب جاری کردہ اس منصوبے کو انتخابات کے بعد بھی جاری رکھا جائے گا یا نہیں اس کی کوئی گیارنٹی نہیں ہے۔کمار سوامی نے کہا کہ اس منصوبے سے ریاست کو صرف 2098؍ کروڑ روپئے کافنڈ حاصل ہوگا۔اس سے کئی گنا زیادہ رقم ریاستی حکومت بجلی پرسبسیڈی، امدادی رقم کے طو رپر دی جارہی ہے۔ریاست سے 17؍ اراکین اسمبلی کو روانہ کرنے کے باوجود مرکز کی طرف سے فراہم کردہ فنڈ یہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ اپریل سے دودھ کے لئے دی جانے والی تائیدی رقم کو بڑھا کر 6؍ روپئے کردیا گیا ہے ، اس پر حکومت کو 2500؍ کروڑ روپئے کا افزود خرچ آئے گا۔ بجلی پر سبسیڈی اور کسانوں کے فلاحی منصوبوں کے لئے الیکٹرک کمپنیوں کو ریاستی حکومت تقریباً 11؍ ہزار کروڑ روپئے دے رہی ہے۔کونسی حکومت نے کیا کیا ہے عوام کو معلوم ہے۔ ریاست کو دئے جانے والے ہزاروں کروڑ روپئے کے فنڈز دئے بغیر مرکزی حکومت انتخابات کے قریب ڈرامہ کررہی ہے۔اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ریاست کے بی جے پی لیڈر مرکز سے فنڈ کا مطالبہ کرنے کی بجائے ریاستی حکومت سے حساب طلب کررہے ہیں۔2016؍ کے نریگا منصوبہ سے 900؍ کروڑ اور رواں سال 450؍ کروڑ روپئے مزدوری کی رقم مرکزی حکومت نے جاری نہیں کی ہے۔ ریاست کی مخلوط حکومت کو گرانے بی جے پی لیڈر روز اول سے کوشش کرتے آرہے ہیں ، مگر ان کی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ انتخابات سے قبل جو وعدہ کسانوں سے کیا گیا تھا اسے پورا کرنے 45؍ ہزار کروڑ روپئے کے قرض معاف کرنے کا چیلنج قبول کیا گیا اور 44؍ لاکھ کسانوں کے کنبوں کو قرض کے بوجھ سے آزاد کرایا گیا۔ اس موقع پر ریاستی وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار، رکن پارلیمان ڈی کے سریش، رکن اسمبلی سریش ، وزیر امکنہ ایم ٹی بی ناگراج اور دیگر حاضر تھے۔