آسام کی طرح یوپی میں نہیں تقسیم ہوں گے مسلم ووٹ، ریاست کے مسلمان ایس پی کے ساتھ : احمد حسن
02:50PM Wed 25 May, 2016
لکھنؤ۔ مسلمان اور سماج وادی پارٹی آج بھی ایک ہیں اورآئندہ بھی ایک رہیں گے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ کسی کے بہکاوے میں نہ آکر ملائم سنگھ یادو اوراکھلیش یادو کے ساتھ رہیں۔ ان خیالات کا اظہاراتر پردیش کے وزیرکابینہ احمد حسن نے لکھنؤ میں کیا۔ مولانا آزاد میموریل اکیڈمی کے پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے احمد حسن نے وزیرا علیٰ اور حکومت کے خوب قصیدے پڑھے۔ احمد حسن کو یقین ہے کہ اتر پردیش میں بدرالدین طیب اور اویسی جیسے لوگوں کی بات نہیں سنی جائے گی۔
ہو سکتا ہے کہ ان کا یہ قیاس صحیح ہو لیکن بدلتے ہوئے حالات اور عوامی رجحانات سے یہ اندازہ ضررو ہورہا ہے کہ اس بار اقتدارکے پنگھٹ کی ڈگر اتنی آسان نہیں جتنا کہ سماج وادی پارٹی کے لوگ سمجھ رہے ہیں ۔ موقع کوئی بھی ہو لیکن سیاسی لوگوں کے سامنے صرف ایک ہی مسئلہ رہتا ہے کہ پارٹی کے آقاووں کو کیسے خوش کیاجائے۔ ایسا ہی کچھ نظارہ لکھنؤ کے اندرا پرتشٹھان میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب قدوس ہاشمی نے احمد حسن کو تقریر کرنے کی زحمت دی۔
وزیر موصوف نے اکیڈمی کی ضرورتوں اورمسائل پر بات کرنے کے بجائے وہی کیا جو اکثر وزرا کرتے ہیں۔ وہی سیاست وہی ووٹ بنک اور وہی مسلمان۔اور مسلمانوں پر حکومت کے احسان۔ حکومت کی تعریف کرنا وقت کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے اور لوگوں کی مجبوری بھی لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ صرف تصویر کے ایک رخ پر ہی کیوں نظر ڈالی جاتی ہے۔ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیوں مسلمانوں کو پارٹی کے منشور میں کئے گئے وعدے کے مطابق ریزرویشن نہیں دیا گیا۔ کیوں وعدے کے مطابق پولیس میں بھرتی نہیں کی گئی۔ کیوں اقلیتی بہبود کی اسکیموں کا پیسہ تقسیم نہیں ہوا ۔ کیا اردو اوراہل اردو کو ان کے حقوق دیے گئے؟ کیا اتر پردیش کی جیلوں میں بند بے گناہوں کو چھوڑا گیا ؟ تو شاید ان سوالات کا جواب کسی کے پاس نہ ہو۔