مشاعرے ادب کے قاری کو دور کررہے ہیں۔ مشاعرے پروفیشنل ہوتے جارہے ہیں:ڈاکٹر سینل پنوار

02:44PM Sat 12 Aug, 2017

بنگلور:(( بھٹکلیس نیوز ) )دکن کلچرل اکاڈمی، بنگلور کے زیر اہتمام ڈاکٹر محمد اقبال شہبازؔ بنگلور کی کتاب ’’ آسمانی سرگوشیاں‘‘کا رسم اجراء بروز جمعرات ۱۰/اگست ۲۰۱۷ء بمقام لانگ لیگ کانفرنس ہال، کرناٹک کرکٹ اسوسیئشن میں ہوا۔ بطور صدر ڈاکٹر فہمیدہ بیگم صاحبہ سابق ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اُردو ، نئی دہلی نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر سنیل پنوارصاحب آئی یف یس اور جناب ریاض احمد کے اے یس شریک رہے۔معروف شاعر و مبصر شمیم راز سروشی، بنگلور ، ڈاکٹر فجیہ سلطانہ، صدر شعبہء اردو گورنمنٹ آرٹس کالج بنگلور ، جناب عبد اللہ سلمان ریاض بطور تبصرہ نگار مدعو ہوئے۔ پروفیسر سعیدہ بیگم، صدر شعبہء اردو الامین کالج، بنگلور نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔شمیم رازؔ سروشی نے ’’آسمانی سرگوشیاں ‘‘پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے کلام میں انسانی اقدار کی تصویر کشی کے ساتھ ساتھ زندگی کے افکار کی بلند خیالی نمایاں ہے۔ اکثر غزلیں پڑھتے ہوئے علامہ اقبال کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔۱۹۸۰ء کے بعد ان کے لہجہ میں ایک تغیر رونما ہوا۔غزل کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے انھوں نے شعر کے پیکر میں فلسفہء زندگی کو پیش کیا۔ ’’آسمانی سرگوشیاں‘‘ میں نظم و نثر دونوں یکجا ہوئے ہیں۔ اُردو ادب کے قاری کے لئے یہ کتاب ایک اہم دستاویز سے کم نہیں ہے۔ ڈاکٹر فجیہہ سلطانہ نے ’’ آسمانی سرگوشیاں‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب میں نے ڈاکٹر شہبازؔ کا کلام پڑھا تو شک گزرا کہ کہیں میں علامہ اقبال کے کلام کو تو نہیں پڑھ رہی ہوں۔لیکن پھر ان کی نثری تخلیقات اور افسانوں کا مطالعہ کرنے کے بعداحساس ہوا کہ نہیں یہ تخلیقات حقیقتاً ڈاکٹر اقبال شہباز ہی کی ہیں۔ ڈاکٹر فجیہہ سلطانہ نے اکثر اشعار کا نہایت ہی گہرائی سے مطالعہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی شاعری درونِ ذات کی ترجمانی کرتی ہے۔ عبد اللہ سلمان ریاض نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹراقبال شہباز نہایت خاموشی اور یک سوئی سے اپنے تخلیقی اور علمی کاموں میں مصروف رہتے ہیں،مضامین کی زبان دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلق دکن سے نہیں بلکہ دہلی و لکھنؤ سے ہے۔ان کے دیگر مضامین میں ...بانجھ کوکھ، اقوام متحدہ، لاشوں کے ڈھیر میں، اب بم گرانے کی کوئی ضرورت نہیں، کاخ جہنم وغیرہ ایسے دلسوز مضامین ہیں جن کو پڑھ کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔آدمی قابو سے باہر ہوجاتا ہے ۔ ان مضامین میں عصر حاضر کی صاف و روشن عکاسی کی گئی ہے۔بہ ظاہر یہ چھوٹے چھوٹے مضامین ہیں لیکن ان کی معنویت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ڈاکٹر سنیل پنوار آئی یف یس نے فصاحت کے ساتھ اُردو میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج کل کے مشاعرے ادب کے قاری کو دور کررہے ہیں۔ مشاعرے پروفیشنل ہوتے جارہے ہیں، سنجیدہ شعرا کو چاہئے کہ آگے بڑھیں اور ایک نیا پلاٹ فارم قائم کریں۔ریاض احمد صاحب کے اے یس نے ڈاکٹر اقبال شہبازؔ کی شخصیت اور ادبی کارناموں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ۷۳۔۱۹۷۲ء میں میرے شاگرد رہ چکے ہیں۔ اس وقت کے اقبال اور آج کے اقبال میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ پہلے بھی سنجیدہ مزاج تھے اور آج بھی وہی خاموش اور سنجیدگی محسوس ہوتی ہے۔صدر جلسہ ڈاکٹر فہمیدہ بیگم صاحبہ نے ’’آسمانی سرگوشیاں‘‘ کی رسم رونمائی فرمائی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میرے بہت سے شاگرد ہیں جن کے تحقیقی مقالے منظر عام پر آنا چائے کیوں کہ یہ مقالے ایک ایسا سرمایہ ہیں جو ادب میں اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں۔ آخر میں ڈاکٹر محمد اقبال شہبازؔ نے توصیفی کلمات ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر فہمیدہ بیگم صاحبہ کو اردو کی چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا کہااور دکنی ادب پر ان کی گہری نظر کا اعتراف کیا۔جناب منیر احمد جامیؔ نے اپنی طالب علمی کا زمانہ یاد کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اقبال شہبازؔ کا میں شاگرد رہ چکا ہوں۔ ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ پروفیسر سعیدہ بیگم نے نظامت کے فرائض بحسن و خوبی نبھائے۔ دیگر دانش ورانِ ادب میں شامل حضرات میں پروفیسر فہیم النساء، پروفیسر وجیہہ سلطانہ ، ڈاکٹر مہہ نور زمانی بیگم، جناب سہیل احمد قریشی، ڈاکٹر یم محمد ابراہیم وغیرہ قابل ذکر ہیں۔