نوٹ بند ی معاملہ :اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کاروائی ہنگامے کی نذر
01:55PM Fri 18 Nov, 2016
نئی دہلی، (ایف او یس)حکومت کی طرف سے 500اور1000روپے کے نوٹ بند کئے جانے کے اقدامات سے عام لوگوں کو ہو رہی پریشانیوں کے معاملے پر وزیر اعظم سے جواب کا مطالبہ کر رہی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے ہنگامے کی وجہ سے آج راجیہ سبھا کی کاروائی میں بار بار رکاوٹ پیدا ہوئی اور پانچ بار کے التوا کے بعد بالآخر ادوپہر تقریبا 3.15 بجے کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ہنگامے کی وجہ سے ایوان میں وقفہ سوال اور وقفہ صفر دونوں نہیں ہوپائے۔صبح اجلاس شروع ہونے پر مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین نے نوٹ بند ی کے معاملے پر جواب کے لیے وزیر اعظم کے ایوان میں آنے کا مطالبہ کیا۔ترنمول کانگریس کے لیڈر ڈیریک اوبرائن نے کہا کہ نوٹ بند ی مسئلے پر تمام اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین کے نوٹس قبول کر لئے گئے ہین اور کل کا مقررہ کام کاج معطل کر کے بحث شروع کی گئی،یہ بحث آج بھی ہونی ہے۔انہوں نے کہا، لیکن سوال یہ ہے کہ جس شخص نے 8 ؍نومبر کی رات کو نوٹ بند ی کا اعلان کیا تھا، وہ کہاں ہیں؟اوبرائن کے اس بیان پر حکمراں فریق کے ارکان نے سخت اعتراض کیا۔اطلاعات و نشریات کے وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا یہ اپنی بات رکھنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔وزیر اعظم کے خلاف اس طرح نہیں بولا جا سکتا۔کانگریس اراکین نے اوبرائن کی بات کی حمایت کرتے ہوئے وزیر اعظم کو ایوان میں بلانے کا مطالبہ اٹھایا ۔اس درمیان، ترنمول کانگریس، کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے رکن وزیر اعظم کو ایوان میں بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسپیکر کے سامنے آ کر نعرے بازی کرنے لگے۔ادھر انا ڈی ایم کے ارکان نے بھی اسپیکر کے سامنے آ کر کاویری ندی کے پانی سے جڑا اپنا مسئلہ اٹھانا شروع کر دیا۔ہنگامہ تھمتا نہیں دیکھ کر ڈپٹی چیئرمین پی جے کورین نے تقریبا 11بج کر 10منٹ پر اجلاس ساڑھے 11بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا ۔ایک بار کے التوا کے بعد اجلاس شروع ہونے پر بھی اپوزیشن رکن دوبارہ اسپیکر کے سامنے آ کر وزیر اعظم کے ایوان میں آنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کرنے لگے۔انا ڈی ایم کے رکن بھی ایوا ن کے بیچوں بیچ پہنچ گئے۔مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ وہ اسپیکر سے وزیر اعظم کے خلاف کئے گئے تبصرہ کو کارروائی سے نکالنے کی درخواست کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کل بھی ایک اپوزیشن رکن نے وزیراعظم کے خلاف ایک تبصرہ کیا تھا اور اسے بھی کارروائی سے نکالا جانا چاہیے ۔اس پر کورین نے کہا کہ وہ ریکارڈ دیکھیں گے اور مناسب کارروائی کریں گے ۔ہنگامے کے دوران ہی کانگریس ارکان نے ایک انگریزی روزنامہ کی کاپی بھی ایوان میں لہرائی۔ایوان میں ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے 11بج کر تقریبا 35منٹ پر اجلاس دوپہر بارہ بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ۔دوپہر 12بجے اجلاس شروع ہونے پر بھی راجیہ سبھا میں اپوزیشن ارکان کا ہنگامہ جاری رہا اور مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین اسپیکر کے سامنے آکر نعرے بازی کرنے لگے۔چیئرمین حامد انصاری نے نعرے بازی کر رہے اراکین سے پرسکون ہونے اور اپنی سیٹ پر جانے کی اپیل کی، لیکن اپنی اپیل کا کوئی اثر ہوتا نہیں دیکھ کر چیئرمین نے محض چند منٹ بعد ہی اجلاس دوپہر ساڑھے 12بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا ۔دوپہر ساڑھے 12بجے اجلاس شروع ہونے پر بھی ایوان میں وہی نظارہ دیکھنے کو ملا اور اجلاس دوپہر دو بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ۔