مودی حکومت کا بڑا فیصلہ، ڈاکٹروں کے خلاف تشدد پر 7 سال تک کی سزا اور جرمانہ

12:17PM Wed 22 Apr, 2020

نئی دہلی: کورونا وائرس (coronavirus) کےخلاف جنگ لڑ رہے ڈاکٹروں کے خلاف بڑھتے تشدد پر مرکزی حکومت نے بڑا فیصلہ لیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بدھ کو ہی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں ایک آرڈیننس پاس کیا گیا ہے، جس کے بعد اب طبی اہلکاروں پ حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس میں تین ماہ سے 7 سال تک کی سزا کی تجویز ہے۔ حکومت نے اس کےلئے 123 سال پرانے وبائی امراض ایکٹ میں بڑی تبدیلی کرکے تشدد کے لئے سخت سزا کا التزام کیا ہے۔ مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر (Prakash Javadekar) نے بدھ کو ہوئی کابینہ کی میٹنگ کے بارے میں بتاتے ہوئےکہا ہے ڈاکٹروں اور طبی اہلکاروں پر ہورہے برداشت نہیں کی جائےگی۔ اس کے لئے مرکزی حکومت آرڈیننس لے کر آئی ہے جو صدر جمہوریہ کے دستخط کے بعد قانون میں بدل جائے گا۔ مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر (Prakash Javadekar) نےکہا کہ وبائی امراض ایکٹ (Epidemic Diseases Act) میں تبدیلی کرکے آرڈیننس نافذ کرنےکا فیصلہ لیا جائےگا۔ یہ نوٹس لینے اور غیر ضمانتی ہوگا۔ 30 دنوں میں کارروائی ہوگی، ایک سال میں فیصلہ آئےگا۔ ڈاکٹروں- طبی اہلکاروں کے خلاف جرم پر ہوسکتی ہے یہ سزا مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ طبی اہلکاروں پر تشدد کے لئے بھاری سزا اور بھاری بھرکم جرمانہ بھی لگایا جائے گا۔ ملزمین کو تین ماہ سے لے کر 5 سال کی سزا، 50 ہزارسے لے کر تین لاکھ تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔ مرکزی وزیر نے یہ بھی کہا کہ طبی اہلکاروں کے خلاف ہونے والے حملوں اور تشدد کو بالکل برداشت نہیں کیا جائےگا۔ ان کی سیکورٹی کےلئے حکومت پورا تحفظ دینے والا آرڈیننس جاری کرے گی۔ وزیر اعظم مودی کے دستخط کے بعد یہ فوری اثر سے جاری ہوگا۔
ڈاکٹروں کو آئی سنگین چوٹ تو 7 سال کی سزا مرکزی وزیر نے یہ بھی کہا کہ اگر زیادہ نقصان ہوا ہے تو 6 ماہ سے 7 سال کی سزا کا التزام اور جرمانہ ایک لاکھ روپئے سے 5 لاکھ روپئے تک ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے پیر کو انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (IMA) نے کہا تھا کہ اگر ڈاکٹروں کے خلاف ہورہے تشدد کےلئےحکومت نے ضروری اقدامات نہیں کئے تو بدھ کو موم بتی جلا کر احتجاج کریں گے اور جمعرات کو وہ ’کالا دن’ (سیاہ دن) منائیں گے۔