مسلم ریزرویشن کیلئےابوعاصم اعظمی کا سراپا احتجاج، مراٹھا ریزرویشن پرکہی یہ بات

04:17PM Thu 27 Jun, 2019

ممبئی: مہاراشٹرسماجوادی پارٹی لیڈرورکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مراٹھا ریزرویشن کا استقبال کر تےہوئےکہا کہ میں وزیراعلی سے یہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ 1926 ء میں سائمن کمیشن نے 36 فیصد ریزرویشن مسلمانوں کو فراہم کیا تھا اوروہ بھی پسماندگی کی بنیاد پرفراہم کردہ ریزرویشن تھا، جسے 1950 ء میں ختم کردیا گیا تھا۔ 1947  میں مسلمان آزاد تھا کہ وہ ہندوستان میں رہے یا پاکستان میں جائے، لیکن مسلمانوں نےاس وقت ہندوستان کواپنا وطن عزیزمنتخب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نےجو ریزرویشن فراہم کیا تھا مسلمانوں کی پورے حالات اور پسماندگی کومدنظررکھ کر ہی ریزرویشن دیا تھا، لیکن یہ انتہائی افسوس کی بات ہےکہ آج مراٹھا سماج کوتوریزرویشن دیا گیا، لیکن مسلمان آج بھی اس سے محروم ہے مسلم ریزرویشن کے خلاف بھی کچھ لوگ کورٹ گئے تھے، لیکن اس وقت ہائی کورٹ نے مسلمانوں کو 5 فیصد ریزرویشن دیا تھا، لیکن اسے بحال نہیں کیا گیا۔ 
 ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ یہ ملک سیکولرہے، یہاں نا انصافی نہیں ہونی چاہئے۔ اس لئے میرا یہ مطالبہ ہےکہ پسماندگی کی بنیاد پرہی مسلمانوں کوبھی ریزرویشن فراہم کیا جائے۔ درایں اثناء ایوان کےباہرابوعاصم اعظمی نے بینرزیب تن کرکےمراٹھا سماج کوریزرویشن کے ساتھ مسلم ریزرویشن دیئے جانےکا مطالبہ اسمبلی کی سیڑھیوں پرکھڑے رہ کرکیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ سب کی توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ ابوعاصم اعظمی نے پہلےتواس پر ایوان میں اپنی آوازبلند کی۔ اس کے بعد سراپا احتجاج تنہا خود سیڑھیوں پربینرزیب تن کرکے کھڑے ہوگئے۔