اندرا کینٹنوں سے  کئی افراد کو روزگار کے مواقع۔ ناشتہ اور کھانے کے لئے بھیٹر

03:12PM Sat 26 Aug, 2017

بنگلور( بھٹکلیس نیوز ):۔ ریاستی حکومت سے غریب لوگوں اور مزدوروں کے لئے شروع کئے گئے اندرا کینٹنوں میں کئی افراد کو روزگار کے مواقع دستیاب ہوئے ہیں اور دوسری طرف رعایتی قیمت میں ناشتہ اور کھاناملنے کی وجہ سے بھیٹر میں اضافہ ہورہا ہے اور لوگ ناشتہ اور کھانالینے کے لئے ٹوٹ پڑرہے ہیں او رکئی مقامات پر لوگوں نے کینٹن ملازمین کے ساتھ لفظی جھگڑا بھی کیا ہے ۔حکومت نے پہلے مرحلہ میں صرف101کینٹن کھولے ہیں اور 2اکتوبر تک تمام 198وارڈوں میں کینٹن شروع کرنے کا فیصلہ لیا ہے اور اس کے لئے تعمیراتی کاموں میں تیزی لائی جارہی ہے اور کینٹنوں کو تعمیر کرنے کی ذمہ داری ٹمل ناڈو کے مدھورائے شہر ی ایک نجی کمپنی کو سونپی ہے اور کینٹن کے لئے عام طور پر ایلی منٹس کازیادہ استعمال ہورہا ہے ۔198وارڈوں میں کینٹن کے علاوہ 28اسمبلی حلقوں میں باروچی خانے بھی کھولے جارہے ہیں ۔یہاں لگ بھگ تین ہزار افراد کو روزگار کے مواقع ملنے کی توقع ہے ۔یہاں مقامی لوگوں کو یعنی کنٹرا نوازوں کو ہی روزگار دینے پر فوقیت دی جارہی ہے ۔ ہر ایک کینٹن میں سات ملازمین اور باورچی خانہ میں 20افراد کو رکھا گیا ہے ۔جبکہ سبزی لانے ۔اناج لانے اور دیگر چیزوں کی خریدی اور ناشتہ اور کھانا پہنچانے کے لئے الگ ملازمین اور منی ٹرکوں اور ٹمپوکے ذریعہ کھانا اور دیگر چیزوں کو فراہم کا جاتا ہے اس سے بھی کئی لوگوں کو روزگار ملاہے ۔کھانے کی فراہمی کی ذمہ داری ننداپور کے شیف ناک اورپنچاب کے ریوارڈس کمپنی کو سونپی گئی ہے ۔شیف ناک کمپنی کو 15اسمبلی حلقوں اور ایوارڈس کمپنی کو 12اسمبلی حلقوں میں ناشتہ اور کھانے کی فراہمی کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔شیف ناک کمپنی کے مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کا تو ایورڈس کمپنی نے دیگر ریاستوں کے ملازمین کو کام پر رکھا ہے ۔ناشتہ اور کھانا نہ ملنے کی وجہ سے کینٹن کے ملازمین پر حملہ کئے جانے کی وارداتیں ہوئی ہیں اس کی روک تھام کے لئے نجی سیکیورٹی ایجنسی کے سیکورٹی گارڈس کو تقرر کرنے کافیصلہ لیا ہے۔کئی کینٹنوں پر مقررہ وقت پر ناشتہ اور کھانا نہ دینے اوردیگر کئی کینٹنوں پر پانی نہ ملنے کی شکایت کرکے حملہ کیا ہے ۔تمام کینٹنوں کو مقررہ وقت پر ناشتہ اور کھانا پہنچانے کیلئے ہر دن جملہ 32سے زائد سواریوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور ہر ایک سواری کے ذریعہ تین ٹرپ لگانے پڑتے ہیں ۔مگر تمام کینٹن کھل گئے تو ہر دن کم سے کم 70سے زائد سواریوں کااستعمال ہوگا۔ دوسری طرف ٹرافک پولیس اہلکاروں نے بھی ان سواریوں کو روک کر ناشتہ اور کھانے کے دیگوں کی جانچ کی تھی۔ جس سے مقررہ وقت پر کھانا کینٹنوں کو نہیں پہنچ سکا۔ مےئر بی پدماوتی نے پولیس کمشنر ٹی سنیل کمار سے ملاقات کرکے گذارش کی ہے کہ ناشتہ اور کھانا لے جانے والی سواریوں کو رو ک کر جانچ نہ کی جائے اور سینل کمار نے حکم دیا ہے کہ کوئی بھی پولیس اہلکار اس طرح کی سواریوں کی جانچ نہیں کریں گے۔