طلباء کو دیا گیا قرضہ معاف کردیا جائے گا:تنویر سیٹھ
03:50PM Mon 17 Jul, 2017
بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) کرناٹک کے وزیر برائے اقلیتی بہبود پرائمری ایجوکیشن واقاوف جناب تنویرسیٹھ نے بتایا کہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری بڑھ رہی ہے مینارٹی ڈپارٹمنٹ کی طرف سے طلباء کو اسکالرشپ دے کر تعلیم کے فروغ میں مدد فراہم کی جارہی ہے اس سے کافی فائدہ پہنچا ہے ۔ آج یہاں مینارٹی کمیشن کے زیر اہتمام اداروں کے ذمہ داروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب تنویرسیٹھ نے بتایا کہ اسکالرشپ کے لئے اس مرتبہ 13 لاکھ 86ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں تمام کو اسکا لر شپ دی جائے گی۔گذشتہ تین سال کے دوران انجنیرینگ میڈیکل ڈنٹل وغیرہ کورس کے13ہزار طلباء نے اس اسکیم کا فائدہ اٹھایا۔ ارویواسکیم کے تحت ہر سال 50تا60طلباء کو اعلی تعلیم کیلئے بیرونی ممالک بھیجا جاتا ہے اس سال400درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ تمام طلباء کی درخواستوں پر غور ہوگا۔ جناب تنویرسیٹھ نے بتایا کہ ارویواسکیم کے تحت طلباء کو دےئے جانے والے قرضہ کو50فیصد معاف کردیا جائے گا۔ اس کا عنقریب آرڈ ر جاری ہوگا۔ قرضہ کی50فیصد معافی کیلئے طلباء کو80فیصد مارکس حا صل کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ85کروڑ روپئے لاگت سے 3664اوقافی اداروں کی حصا ر بندی عمل میں آئی ہے جن میں عیدگاہ اور قبرستان شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مسا جد کو مرکزبنا کر کام کریں تو ہمارے بہت سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں لیکن ہم ہمارے اداروں کو وقف سے جوڑنے کیلئے تیار نہیں ۔ جناب تنویرسیٹھ نے کہا کہ حکومت نے اقلیتوں کیلئے معقول بجٹ الاٹ کیہے۔ یہ بجٹ کہاں اور کیسے خرچ ہورہا ہے کیا یہ مستحق اور ضرورت مندوں تک پہنچ رہا ہے یا نہیں اس پر بھی نظر رکھنی ہے حکومت کا بجٹ صحیح مد میں خرچ ہوتا ہے تو اس کا ڈیمانڈ بھی بڑھتا ہے بجٹ میں مزید اضافہ کا مطالبہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے جناب تنویرسیٹھ نے کہا کہ افسوس کہ اسکیموں کی جانکاری دوسروں تک پہنچانے میں ہم کوتاہی کرتے ہیں ۔انہوں نے جناب رحمن خان کی طرف سے کرائے گئے سروے کاذکر کرتے ہوئے بتایاکہ اس سروے سے بہت سارے حقائق سامنے آئے ہیں۔ سروے رپورٹ کی روشنی میں ہمیں بہت کچھ کرنا ہے۔