شہاب الدین کوعمرقید کی سزا برقرار، سپریم کورٹ نے پوچھا "چندا بابو کے تیسرے بیٹے کوکیوں مارا"؟
01:31PM Tue 30 Oct, 2018
سپریم کورٹ نے تیزاب سے نہلا کرچندا بابو کے دو بیٹوں کا قتل کرنے کے معاملے میں سیوان کے ڈان اورچاربارممبرپارلیمنٹ رہ چکے محمد شہاب الدین اورتین معاونین کوہائی کورٹ سے ملی عمرقید کی سزا برقرار رکھی ہے۔
پیرکواس معاملے کی سماعت ہوتے ہی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی بینچ نے محض کچھ منٹ میں ہی شہاب الدین کی عرضی مسترد کردی۔ جیسے ہی وکیل نے کچھ کہنا چاہا، بینچ نے پوچھا شہاب الدین کے خلاف گواہی دینے جارہے راجیون روشن کوکیوں مار دیا؟ اس کے قتل کے پیچھے کون تھا؟
چیف جسٹس گوگوئی کے ساتھ جسٹس ایس کے کول اورکے ایم جوسف کی بینچ اس قتل عام پرسخت نظرآئی۔ شہاب الدین کی طرف سے سینئروکیلوں کی ٹیم نے جیسے ہی اس کے بچاو میں کچھ کہنا چاہا۔ بینچ نےکہا ان اپیلوں میں کچھ بھی نہیں رکھا ہے اورہم ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت نہیں کریں گے۔عدالت نے بہارحکومت کے وکیل کیشوموہن سے کچھ بھی نہیں پوچھا اورمعاملے کو حل کردیا۔ 9 دسمبر2015 کو اسپیشل کورٹ نے شہاب الدین کوعمرقید کی سزاسنائی تھی۔ گزشتہ سال 30 اگست کو پٹنہ ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کوبرقراررکھا۔
تیزاب اٹیک مرڈر بہارکی خونی تاریخ کا ایک سیاہ صفحہ ہے۔ اگست 2004 میں شہاب اورمعاونین نے سیوان کے پرتاپ پور گاوں میں چندا بابو کے دو بیٹوں ستیش اورگریش روشن کو زندہ تیزسے نہلا کرماردیا تھا۔ ان دونوں کا قصوریہ تھا کہ انہوں نے شہاب الدین کے ساتھیوں کو رنگداری دینے سے انکار کردیا تھا۔
شہاب الدین کی دہشت اوردھمکیوں کے باوجود چندا بابو نے انصاف کی لڑائی جاری رکھی، لیکن اس کی بھاری قیمت انہیں ادا کرنی پڑی۔ جب 6 جون 2014 کو بھائیوں کے مرڈر کے معاملے میں کورٹ میں گواہی دینے جارہے ان کے تیسرے بیٹے راجیوروشن کو بیچ شہرمیں گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ واضح رہے کہ شہاب الدین ابھی دہلی کے تہاڑ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔