کسانوں کے قرضوں کی معافی کا اثر نئے سرکاری میڈیکل کالجوں کا قیام مشکوک
02:58PM Mon 11 Sep, 2017
بنگلور:11؍ستمبر(ایجنسی) باوثوق سرکاری ذرائع کے مطابق سال رواں سرکاری میڈیکل کالجوں کے قیام کا مقصد پورا ہونا مشکوک ہے، اطلاع کے مطابق حکومت کی جانب سے کسانوں کے قرضے معاف کئے جانے کا اثر نئے میڈیکل کالجوں کے قیام پر پڑا ہے، جن سے وزیر طبی تعلیم ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل کی کوششوں کو محکمہ مالیات کی جانب سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، کیونکہ کسانوں کے قرضوں کی معافی کے اعلان کے بعد محکمہ میں روپے نہیں ہیں، بتایا جاتا ہے کہ محکمہ مالیات کے اڈیشنل چیف سکریٹری آئی ایس این پرساد نے محکمہ طبی تعلیم کو ایک مکتوب روانہ کرکے بتایا ہے کہ حکومت نے ریاست کے کو آپریٹیو بینکوں میں کسانوں کے50 ہزار روپئے تک کے قرضوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا ہے، جن سے خزانہ پر 8165 کروڑ روپئے افزود بوجھ پڑے گا، اس وجہ سے حکومت کی جانب سے2017-18 کے بجٹ میں باگل کوٹ ، ہاویری، چترادرگہ، چکمگلور، چکبالاپور اور یادگیر میں مجوزہ میڈیکل کالجوں کے قیام کا منصوبہ پورا کرنا مشکوک ہے، مجوزہ ہر ایک نئے کالج کے قیام کے لئے کم سے کم150 تا200 کروڑ روپئے چاہئے، جن سے کالج کی عمارت، بنیادی سہولیات اور عملہ کی تقرری ہوگی، جس کے لئے روپیوں کی قلت ہے، اس دوران نئے میڈیکل کالجوں کے قیام کے اعلان کے سلسلہ متعلقہ اضلاع کے عوامی منتخب نمائندوں نے جیسے پریانک کھرگے، سابق وزیر ایچ وائی میٹی، ڈپٹی اسپیکر شیو شنکر ریڈی وغیرہ نے میڈیکل کالجوں کو قائم کرنے وزیر طبی تعلیم کو مکتوب روانہ کرکے مطالبہ کیا ہے، اس سلسلہ میں ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے بتایا کہ رواں سال ہی نئے میڈیکل کالج قائم کرنے محکمہ مالیات کے افسران سے گزارش کی گئی ہے، کیونکہ اس سے آگے والے سال میں انڈین میڈیکل کونسل سے منظوری حاصل کرنے میں آسانی ہو گی، اس لئے کوشش جاری ہے ریاست میں18 سرکاری میڈیکل کالج قائم ہیں، اور نئے6 کالجوں کے قیام سے ہر ضلع میں ایک میڈیکل کالج کا قیام ممکن تھا، جس کے تحت فی کالج150 سیٹوں کے حساب سے900 طلباء کو سرکاری میڈیکل سیٹس حاصل ہوسکتی تھیں، جس سے غریب طلباء کو سرکاری کوٹے میں نشستیں حاصل کرنے نیں آسانی تھا، لیکن محکمہ مالیات کے فیصلہ سے تقریباً900 طلباء میڈیکل سیٹوں سے محروم ہوں گے۔