میرے مذہب سے کسی اور کو کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے :چیف جسٹس
03:46PM Mon 21 Nov, 2016
نئی دہلی، (ایف اویس)
معاشرے میں امن کے لیے رواداری پر زور دیتے ہوئے ہندوستان کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے آج کہا کہ انسان اور بھگوان کے درمیان کا رشتہ انتہائی ذاتی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس سے کسی اور کو کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس روہٹن ایف نریمن کی جانب سے پارسی مذہب پر لکھی گئی ایک کتاب کے رسم اجراء کے دوران جسٹس ٹھاکر نے یہاں کہا کہ جتنے لوگ سیاسی نظریات کی وجہ سے نہیں مارے گئے ہیں ، اس سے کہیں زیادہ لوگوں کی جانیں مذہبی جنگوں میں گئی ہیں ۔’دی انر فائر ، فیتھ، چوائس اینڈ ماڈرن ڈے لیونگ ان جرو ایسٹرنزم ‘نامی کتاب کا اجراء کرتے ہوئے جسٹس ٹھاکر نے یہ بھی کہا کہ مذہبی عقائد کی وجہ سے اس دنیا میں زیادہ تباہی، نقصان اور خون خرابے ہوئے ہیں۔سی جے آئی نے کہاکہ اس دنیا میں سیاسی نظریات سے کہیں زیادہ جانیں مذہبی جنگوں میں گئیں ہیں، زیادہ انسانوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا ہے، کیونکہ انہوں نے سوچا کہ ان کی راہ اس کی راہ سے زیادہ اچھی ہے، کیونکہ انہوں نے سوچا کہ وہ ایک کافر ہے، کیونکہ انہوں نے سوچا کہ وہ ایک ملحد ہے، مذہبی عقائد کی وجہ سے اس دنیا میں زیادہ تباہی، نقصان اور خون خرابے ہوئے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ میرا مذہب کیا ہے؟ میں اپنا ایشور سے خود کو کیسے جوڑتا ہوں؟ ایشور سے میرا کیسا رشتہ ہے؟ ان چیزوں سے کسی اور کو کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ، آپ اپنے ایشور کے ساتھ اپنا رشتہ چن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انسان اور خدا کے درمیان کا رشتہ کافی پرسنل اور ذاتی ہوتا ہے، اس لیے اس سے کسی اور کو کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے ۔