مدارس کے بچوں کو ہراساں کئے جانے کے مسئلہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے پر

04:05AM Fri 14 Jul, 2017

ملی قائدین سے آل انڈیا ملی کونسل کا اظہار تشکر بنگلور (بھٹکلیس نیوز ) ریاست میں اسمبلی انتخابات کا زمانہ جیسے جیسے قریب آتا جا رہا ہے فرقہ پرست جماعتیں اور افراد ریاست کے حالات کو بگاڑنے اور یہاں فسادات برپا کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہو گئے ہیں، اسی سلسلہ کی ایک کڑی شہر کے کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن پر ملک کے مختلف حصوں سے ریاست کے مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آنے والے طلباء کی ہراسانی کا مسئلہ ہے۔شر پسندوں نے غلط اور جھوٹے الزامات لگا کر نا صرف ان معصوم بچوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی تھی بلکہ ان کے ساتھ ان بچوں کی نگرانی کے لئے آنے والے اساتذہ کے ساتھ بھی سخت ناروا سلوک برتا گیا۔ایسے مواقع پر عام مسلمانوں کا مشتعل ہو جانا بھی فطری چیز ہے، لیکن شہر بنگلور کے مسلمانوں نے نہایت ہوشمندی سے کام لیا اور ملت کے کئی سیاسی و ملی قائدین نے بر وقت اور مسلسل کوششوں کے ذریعہ اس سنگین مسئلہ کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل فرمایا، اس طرح ناصرف شہر میں ایک بڑا حادثہ رونماء ہونے سے ٹل گیا بلکہ شہر کے امن و امان میں خلل ڈالنے کی شر پسندوں کی سازش بھی ناکام کر دی گئی۔اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے جنرل سکریٹری جناب سید شاہد احمد نے ان تمام سیاسی اور ملی قائدین کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے اس نازک موقع پر بروقت اقدام کیا اور براہ راست ریاستی وزیر اعلیٰ کو اس معاملہ میں مداخلت پر مجبور کر دیا اور بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ اور ان کے اساتذہ کے ساتھ ظلم و زیادتیوں پر روک لگادی ،یقیناً ملت کے یہ تمام قائدین مبارک باد کے مستحق ہیں۔اسی کے ساتھ جناب شاہد احمد نے مدارس کے ذمہ دارن سے گذارش کی کہ بچوں کو مدارس میں واپس بلانے کے وقت مناسب احتیاطی اقدامات کریں اور شر پسندوں کو اس کا موقع فراہم نہ کریں کہ کسی طرح کی شرارت کرنے پائیں، انہوں نے کہا کہ ہر سال شوال کے مہینہ میں جب رمضان کی چھٹیوں کے بعد طلبائے مدارس گھروں سے مدرسوں کو لوٹتے ہیں تو اس طرح کی شرارتیں کی جاتی ہیں اور طلباء اور ان کے اساتذہ کو پریشان کیا جاتا ہے، اس مسئلہ کے مستقل حل کے لئے ایک مناسب لائحہ عمل کی تیاری ضروری ہے، آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک اس تعلق سے جلد ہی مختلف ملی و سیاسی قائدین کے مشورہ سے کوئی لائحہ عمل تیار کرنے کا اقدام کرے گی۔