سعودی عرب میں سونے کے پان والی دودھ کی بوتلوں پر سخت ردعمل
02:32PM Tue 8 Nov, 2016
''مُنھ میں چاندی کا چمچ'' لے کر پیدا ہونے کا محاورہ تو آپ نے سنا ہوگا لیکن اب سعودی عرب میں مُنھ میں سونا لے کر پیدا ہونے کے محاورے نے عملی صورت ضرور اختیار کر لی ہے اور وہاں امیر لوگ اب اپنے بچوں کے لیے سونے اور ہیروں سے مرصع بوتلیں خرید کر لا رہے ہیں۔
بچوں کی دودھ کی ان بوتلوں (فیڈر) پر 18 قیراط سونے کی تہ چڑھی ہوتی ہے اور ان کی تصاویر کی اسی ہفتے سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر تشہیر کی گئی ہے۔ ان کی قیمت 400 سے 1333 ڈالرز کے درمیان ہے۔
ایک سعودی جیولر محمد العرباش نے ایم بی سی کے چینل کے ایک نیوز بلیٹن میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بچوں کی سونے والی بوتلوں کی فروخت کا یہ کوئی نیا کاروبار یا آئیڈیا نہیں ہے بلکہ اس کے ڈیزائن کا تصور تیس سال قبل پہلی مرتبہ سامنے آیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے باپ نے سونے والی بوتلوں کی کئی سال قبل فروخت شروع کی تھی اور بڑی تعداد میں فروخت کی تھیں۔ العرباش کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس ابھی تک وہ بوتل موجود ہے جو ان کی والدہ نے 1982ء میں ان کے لیے خرید کی تھی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ سونے ،ہیرے اور دیگر قیمتی دھاتوں سے مزیّن ان بوتلوں کی قیمت مختلف ہے اور اس کا انحصار ان کے وزن اور سونے کے خالص ہونے پر ہے۔ دودھ کی ان بوتلوں پر 21 قیراط تک سونا استعمال کیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سونے کی جن بوتلوں کی تشہیر کی جارہی ہے ،ان میں سے ایک سعودی عرب کے شہر الدمام میں ایک جیولری شاپ میں بنائی گئی تھی۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سونے کے پان والی بوتلوں کی فروخت کا رجحان نیا نہیں ہے مگر یہ عام بھی نہیں ہے اور کم کم لوگ ہی ان کے خریدار ہیں۔
بچوں کی سونے والی بوتلوں میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مارکیٹ میں اطالوی سونے کی چوسنیاں بھی دستیاب ہیں اور ان کی قیمت 93 ڈالرز سے 173 ڈالرز کے درمیان ہے اور کم قیمت ہونے کی وجہ سے ان کی بہت مانگ ہے۔یہ چوسنیاں عام طور پر نومولود بچوں کو ان کی پیدائش پر تحفے میں دی جاتی ؛ہیں۔
سعودی عرب میں سوشل میڈیا کے صارفین کی بڑی تعداد نے سونے سے مزیّن بوتلوں کی فروخت کے رجحان کی مذمت کی ہے اور اس کو اسراف اور فضول خرچی قرار دیا ہے۔