بشارالاسد کے لیےشام میں کوئی جگہ نہیں:سعودی عرب ،مصر

04:48PM Sun 25 Oct, 2015

سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور مصر شام کے بارے میں یکساں مؤقف رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک صدر بشارالاسد کے لیے جنگ زدہ ملک کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ قاہرہ میں اتوار کو اپنے مصری ہم منصب سامح الشکری کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے ملک کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بشارالاسد کا بعد از جنگ شام میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اس موقع پر سامح الشکری نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور مصر کے درمیان شام کے بارے میں مؤقف میں کوئی اختلافات نہیں ہیں اور دونوں ممالک اس حوالے سے یکساں مؤقف کے حامل ہیں۔ سعودی وزیرخارجہ نے بتایا کہ شام میں جاری تنازعے کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی بات چیت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید مشاورت درکار ہے۔ انھوں نے کہا:''میرا یقین ہے کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور شامی بحران کے حل کے لیے ہم قریب قریب آئے ہیں لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم کسی سمجھوتے تک پہنچ گئے ہیں۔ہمیں اس تک پہنچنے کے لیے ابھی مزید مشاورت درکار ہے''۔ عادل الجبیر نے قبل ازیں جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ بشارالاسد اگر مقناطیس کی طرح اقتدار سے چمٹے رہتے ہیں تو اس سے غیرملکی جنگجوؤں کو شام میں لڑائی کے لیے مزید جنگجو بھرتی کرنے کا موقع ملے گا۔اس لیے انھیں شام کو داعش سے پاک کرنے کے لیے جانا ہوگا''۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے یہ بھی کہا تھا کہ شام میں جاری تنازعے کے حل اور وہاں امن کوششوں میں ایران کے کردار سے متعلق کچھ سوچنا بھی مشکل ہے کیونکہ وہ شامی تنازعے میں ایک فوجی کردار ادا کررہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے کہ ''کیا ایران کو شامی بحران کے حل میں کردار ادا کرنا چاہیے؟اس کے لیے ایران کو شام سے انخلاء کرنا ہو گا،اپنی آلہ کار شیعہ ملیشیاؤں کو واپس بلانا ہوگا،بشارالاسد کی حکومت کو ہتھیار مہیا کرنے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔اس کے بعد ہی بحران کے حل میں اس کا کوئی کردار ہوسکتا ہے''۔